سعودی عرب اور امریکا کے مابین دفاعی معاہدے کی قیاس آرائیاں جاری ہیں اور شنید یہ ہے کہ سعودی ولی عہد و وزیراعظم محمد بن سلمان واشنگٹن کا دورہ کریں گے جس کے دوران امریکا کے ساتھ معاہدہ ہونے کی امید کی جارہی ہے۔ سعودی عرب سمیت گلف ممالک یہ جانتے ہیں کہ اسرائیل کوئی قابل بھروسہ ملک نہیں لیکن اسی اسرائیل اور امریکا کا آپس میں دوطرفہ رشتہ ایک جان دو قالب کی مانند ہے، یہاں تک کہ ماضی میں اسرائیل امریکا ہے اور امریکا اسرائیل ہے کے نعرے بھی لگائے جاتے رہے ہیں۔
اس تناظر میں، سعودی عرب کی جانب سے امریکا کے ساتھ دفاعی معاہدے کی کوششوں کو خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے ردعمل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں، سعودی عرب نے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کے لیے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں، جن میں امریکی ساختہ جدید ہتھیاروں کی خریداری اور مشترکہ فوجی مشقیں شامل ہیں۔ مثال کے طور پر، سعودی عرب نے 2017 میں امریکا کے ساتھ 110 ارب ڈالر کا دفاعی معاہدہ کیا تھا، جس میں جدید میزائل دفاعی نظام اور دیگر ہتھیار شامل تھے۔
اس کے علاوہ، سعودی عرب کی جانب سے خطے میں ایران کے بڑھتے اثر و رسوخ کو متوازن کرنے کی کوشش بھی اس معاہدے کی ایک اہم وجہ سمجھی جاسکتی ہے۔امریکا اور سعودی عرب کے مابین ممکنہ طور پر تشکیل پانے والا یہ معاہدہ قطر اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے سے مشابہ قرار دیا جا رہا ہے، جوقطر پر اسرائیلی حملے کے بعد منظرِ عام پر آیا تھا۔ قطر کے بعد سعودی عرب کا امریکہ سے دفاعی معاہدہ خطے میں ایک نئی صف بندی کی نشاندہی کرتا ہے۔ اگرچہ اس معاہدے کی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی، لیکن حالات بتا رہے ہیں کہ جلد یہ معاملہ حتمی مرحلے میں داخل ہو جائے گا، خاص طور پرعنقریب ولی عہد کے واشنگٹن دورے کے موقع پر، جبکہ سعودی عرب کو امریکہ کے ساتھ اس قسم کے معاہدے کی ضرورت دو وجوہات کی بنا پر پیش آئی ہے: پہلی، اسرائیل کا قابلِ بھروسہ نہ ہونا، اور دوسری، داخلی خطرات جن سے خلیجی ممالک مسلسل دوچار ہیں۔ ان خطرات میں سب سے نمایاں خطرہ مسلم برادرہڈ سے سمجھا جاتا ہے، جس کے باعث ماضی میں کئی خلیجی ممالک نے اپنے دفاعی کیمپ مختلف مقامات پر قائم کیے۔
اس سلسلے میں، سعودی عرب نے نہ صرف مسلم برادرہڈ بلکہ یمن میں حوثی باغیوں اور دیگر غیر ریاستی عناصر سے پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنی فوجی طاقت کو بڑھانے پر توجہ دی ہے۔ مثال کے طور پر، سعودی عرب نے جون 2025 میں امریکی ساختہ پیٹریاٹ میزائل سسٹم کو اپ ڈیٹ کیا ہے تاکہ یمن سے داغے جانے والے ڈرون اور میزائل حملوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔
مزید برآں، سعودی عرب کی جانب سے خطے میں استحکام کے لیے امریکا کے ساتھ تعاون بڑھانے کی کوششوں کو بعض تجزیہ کار سعودی عرب کی خارجہ پالیسی میں ایک نئے مرحلے کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جس کا مقصد نہ صرف ایران بلکہ دیگر علاقائی چیلنجز سے نمٹنا ہے۔
راقم الحروف کے تجزئیے کے مطابق پاکستان کو سعودی عرب امریکا معاہدے سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ اپنی جگہ قائم و مضبوط ہے، اور اس سے نہ پاکستان کی پوزیشن متاثر ہوگی اور نہ ہی اس کی دفاعی صلاحیت۔ سعودی عرب جو تعاون امریکہ سے حاصل کرے گا، خواہ وہ انٹیلی جنس ہو، میزائل نظام یا آئرن ڈوم جیسا تحفظی ڈھانچہ — وہ بالواسطہ طور پر پاکستان کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تربیت اور دفاعی مشقوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کی ایک واضح مثال “السامعہ الشیلڈ” نامی مشترکہ فوجی مشقیں ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون کو مضبوط کرنے کا ذریعہ ہیں۔ اس کے علاوہ، سعودی عرب نے ماضی میں پاکستان کو مالی اور فوجی امداد بھی فراہم کی ہے، جس میں مارچ 2014 میں سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو 1.5 ارب ڈالر کی گرانٹ شامل ہے۔
یہ تعاون نہ صرف دفاعی شعبے تک محدود ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی اور سفارتی تعلقات کو بھی تقویت دیتا ہے۔ اس تناظر میں، سعودی عرب کا امریکا کے ساتھ معاہدہ پاکستان کے لیے ایک موقع کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، کیونکہ یہ خطے میں استحکام کے فروغ کا طریقہ سمجھا جاسکتا ہے۔دوسری جانب، چین اور روس بھی اس پیش رفت کو بغور دیکھ رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر سعودی عرب اور امریکہ کا دفاعی معاہدہ طے پاتا ہے تو خطے میں روس اور چین کے اثر و رسوخ میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ تاہم، پاکستان سمیت ہر ملک کو اپنی خودمختاری کے تحت جس ملک سے چاہے معاہدہ کرنے کا حق حاصل ہے۔
اس تناظر میں، چین اور روس کی تشویش کو سمجھنے کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ سعودی عرب حالیہ برسوں میں اپنی خارجہ پالیسی میں تنوع لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ مثال کے طور پر، سعودی عرب نے 2023 میں چین کی ثالثی میں ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کیے، جو خطے میں ایک اہم پیش رفت تھی۔
اس کے باوجود، سعودی عرب کا امریکا کے ساتھ گہرا تعاون اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ اپنی سیکیورٹی کے لیے مغربی ممالک پر انحصار کو ترجیح دیتا ہے۔ یہ صورتحال چین اور روس کے لیے ایک چیلنج ہو سکتی ہے، کیونکہ وہ مشرق وسطیٰ میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ خطاب میں اسرائیل کی پارلیمنٹ میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی ایٹمی صلاحیت ختم ہو چکی ہے اور اسے “نیوٹرلائز” کر دیا گیا ہے۔ اگرچہ اس بیان کی حقیقت مختلف ذرائع میں متنازع ہے، لیکن یہ بات ضرور واضح ہوتی ہے کہ امریکہ خطے میں اسرائیل کو مکمل اعتماد دینے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ اس کے برعکس، ایران اب مستقل تنازع کے بجائے نئے مذاکراتی راستے تلاش کر رہا ہے ۔ واضح رہے کہ ایران کی ایکسیس آف رزسٹنس لبنان سے لے کر عراق تک، بشمول حماس اور حوثی نہ صرف کمزور بلکہ اختتام کے قریب جبکہ لبنان میں حزب اللہ ، شام ملیشیا اور عراق ملیشیا کا تقریباً خاتمہ ہوچکا جبکہ ایران کے حامی حوثی بھی آخری سانسیں لیتے نظر آرہے ہیں۔ایسے میں ایران جس پر پہلے ہی سنگین پابندیاں عائد ہوچکی ہیں، وہ وقتی طور پر کچھ نئی راہیں تلاش کرتے ہوئے اپنے آپ کو کسی معاہدے میں لا کر استحکام حاصل کرنے میں عافیت سمجھے گا، تاکہ خطے میں اپنی پوزیشن بہتر بنا سکے۔ یوں مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ سعودی عرب اور امریکہ کے ممکنہ دفاعی معاہدے نے مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن، علاقائی اتحادوں اور ایران کے کردار — تینوں کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔
اس معاہدے کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ تک محدود ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر بھی جغرافیائی سیاسی حرکیات کو متاثر کریں گے۔ تاہم، اگر یہ معاہدہ طے پاتا ہے، تو اس سے نہ صرف سعودی عرب کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا بلکہ خطے میں امریکا کی موجودگی بھی مزید مضبوط ہوگی، جو عالمی طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں