کورونا وائرس کا فائدہ کون اٹھا رہا ہے

تازہ ترین

تازہ ترین

پوری دنیا کورونا وائرس جیسی موذی وبا سے تباہی و بربادی کی جانب گامزن ہے،چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والا کورونا وائرس کا سفر اپنی منازلیں طے کرتاہوا امریکہ ، برطانیہ ، یورپ ، خلیجی ممالک کے بعد بر صغیر میں پہنچاتھا، ایشیاء سے نکل کر پوری دنیا پر چھانے والا وائرس کورونا واپس ایشیائی ممالک میں پہنچ چکا ہے ، جس سے پاکستان بھی متاثر ہو رہا ہے۔

کوروناجب چائنہ میں تھا تو چین نے امریکہ پر الزام لگایا کہ یہ امریکہ کی سازش ہے یا نہیں اس کا جائزہ لے رہے ہیں، چائنہ تو اپنے ایک وسطی شہر میں کورونا وائرس کو سمیٹ کر لاک ڈاؤن پالیسی پر مکمل عمل در آمد سےکامیاب ہو گیا اور اب وہاں تمام لاک ڈاون ختم کر دیا گیا ہے،زندگی معمول پر آنا شروع ہو چکی ہے، صنعتیں جہاں دنیا بھر میں بند ہیں وہاں چائنہ میں بدستور چل رہی ہیں ۔

چائنہ اپنی معیشت مضبوط کر رہا ہے اور یہ دیکھ کر اب امریکہ نے کورونا وائرس کے پھیلاو کا الزام چین پر لگا دیا ہے،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مطالبہ کیا ہے کہ چین ووہان شہر کی لیبارٹری کے معائنہ کرنے کی اجازت دے ، اس کا کہنا ہے کہ ہمیں یقین ہے کہ یہ چین کی کارستانی ہے اور چین نے یہ سازش تیار کی کہ پہلے ووہان سے شروع کیا اور خود محفوظ ہو گیا ،جب کہ پوری دنیا کو بر باد کرنے کے لیے اسے جان بوجھ کر پھیلایا گیا ہے۔

ہمیں اس بات کا اندازہ لگانے کے لیے کہ کورونا وائرس انسانی تخلیق ہے یا انسان نے اسے اپنے مذموم مقاصد کے لیے ہتھیاربنانے کی کوشش کی ہے، اس کا اندازہ لگانے کے لیے پہلے اس بات کا پتہ لگانا ہوگا کہ اس کا براہ راست فائدہ کون اٹھا رہا ہے اور اس کا سب سے زیادہ نقصان کسے ہو رہا ہے، اس کا سب سے زیادہ نقصان دنیا بھر کے غریب افراد کو ہو رہا ہے۔

چھوٹے تاجر لاک ڈاؤن کے باعث سڑک پر آچکے ہیں،کروڑوں افراد دنیا بھر میں بے روزگار ہو چکے ہیں، بین الاقوامی معیشت تو کچھ عرصہ میں مناسب مقام حاصل کر لے گی مگر غریب عوام کی ذاتی حیثیت میں معیشت مکمل برباد ہو چکی ہے، ہرملک کی صنعت و تجارت مکمل جام ہے، دنیا کے ممالک درآمدات اور برآمدات سے محروم ہیں۔

البتہ چین میں صنعتیں آباد ہیں اور محدود تجارت بھی جاری ہے۔کورونا وائرس کا جو کھیل چین سے شروع ہوا آج چین خوشحالی کی جانب قدم رکھ چکا ہے، دوسری طرف چین نے بھی دنیا بھر کی بند صنعتوں کا ناجائز فائدہ بھی اٹھا نا شروع کر دیا ہے ، خصوصاََطبی آلات کی تیاری اب چین میں بہت تیزی سے جاری ہے اور چین نے ان آلات کی فروخت میں موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے گراں فروشی شروع کر دی ہے۔

دن نیوز گروپ کے چیئرمین محمود صادق نے ایک ٹاک شو میں واضح طور پر چین پر یہ الزام لگایاہے کہ چین نے خوف کا کاروبار شروع کر رکھا ہے اور خوف کی آڑ میں طبی آلات کی فروخت بلیک میں کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 3 ہزار ڈالر کا وینٹی لیٹر چائنہ 25 ہزار ڈالر میں فروخت کر رہا ہے۔یعنی 22 ہزار ڈالر اضافی رقم دنیا کے دیگر ممالک سے وصول کر رہا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ ایم 95 ماسک میں استعمال ہونے والا کپڑا میلٹ بلون9ہزار ڈالر ایک ٹن فروخت ہونے والا اب چین 55 ہزار ڈالر فی ٹن وصول کر رہا ہے۔

اب اس کپڑے کی فروخت پر پابندی لگا دی ہے اور اس کے صرف ماسک بنا کر فروخت کیا جا رہا ہے جو ایم 95 ماسک1 سینٹ کے 2 ماسک فروخت ہوتا تھا وہ اب 20 سینٹ میں فروخت ہو رہا ہے۔

واضح رہے کہ حکومت پاکستان نے بھی چین سےمختلف طبی آلات خریدے ہیں اور شکریہ کے ساتھ اسے وصول کیا ہے ، مگر حکومت نے اس کی تفصیل جاری نہیں کی کہ چین سے آنے والے طبی آلات میں کتنا تحفے میں دیا گیا اور کتنا کس قیمت پر پاکستان کو فروخت کیا گیا ہے۔

پاکستانی تو پہلے ہی کمیشن پر کام کرنے میں بد نام ہیں اور انہیں کمیشن دے کر غیر معاری اشیا بھی قوم کو فراہم کردی جاتی ہیں۔ چائنہ کی اسی لیے تو پاکستانیوں سے بنتی ہے کہ پاکستانی افسران و سیاستدانوں کو خریدنا آسان ہوتا ہے ۔

چین کو اپنی غیر معیاری اشیاء کی بہترین قیمت پاکستانی لالچی حکمرانوں کو کمیشن کی ادائیگی کی پالیسی سے باآسانی حاصل ہو جاتی ہےچین کو تو اپنی اشیاء فروخت کرنے سے مطلب ہے، کمیشن دینے میں چینی تاجروں ، صنعت کاروں یا چینی حکومت کو کوئی نقصان نہیں ہوتا ، وہ قیمت بڑھا کر اور معیار گرا کر اپنا الو سیدھا کر لیتے ہیں، ان تمام باتوں کا زکر کرنے کا مقصد موجودہ حالات و صورتحال کا جائزہ لینا ہے کہ کس کو اس صورتحال سے فائدہ پہنچ رہا ہے۔

چین نے اب تک گھاٹے کا سودا نہیں کیا ہے اور اب تو ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ چین واقعی خوف کا  کاروبار کر رہا ہے اور اس خوف کی اسے قیمت مل رہی ہے۔

یورپ اور امریکہ میں تو خوف کے ساتھ موت بھی بہت زیادہ مل رہی ہے، یورپ بھی اس میں پیچھے نہیں ہے مگر افسوس پاکستان میں وفاقی اور سندھ حکومت کی لڑائی میں عوام کی آنکھیں کھول دی ہیں، عوام نے یہ بھی دیکھ لیا ہے کہ کس طرح سندھ حکومت خوف کا کاروبار کر کے ایک طرف وفاق کو دبوچ رہی ہے تو دوسری طرف تاجر تنظیموں نے بھی انہیں کاروبار کھولنے کے لیے بلیک میل کرنے کی شکایات عام ہو رہی ہیں۔

پاکستانی موت سے نہیں ڈرتے اسی لیے انہیں لاک ڈاؤن پر عمل کرنا پسند نہیں اور وہ آزاد گھومنا پسند کرتے ہیں، سندھ حکومت نے کورونا وائرس مثبت مریضوں کی تعداد میں بہت تیزی سے اضافہ ظاہر کرنا شروع کر دیا ہےاور پنجاب کے قریب ترین تعداد متاثرین کی چل رہی ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ سندھ سرکار بلیک میل کر رہی ہے، ایک طرف وفاقی حکومت کو نیب مقدمات کے خاتمے اور کلین چٹ لینے کے لیے ، دوسری طرف وفاق کو اب فیصلہ کر لینا چاہیے کہ وہ صوبے کے عوام اور ملک کو بچاتی ہے یا نام نہاد جمہوریت کو ، کیوں کہ سندھ میں تو جمہوری مارشل لاء لگا ہوا ہے۔

عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والوں نے عوام کو کچھ نہیں دیا بلکہ سندھ کے عوام خصوصاََ شہری علاقوں میں محرومی اور مایوسیوں کےسائے ہیں۔

یہ مایوسی 18 ویں ترمیم کرنے والوں کو کوس رہی ہے اور مطالبہ کر رہی ہے کہ اس بد بخت سول ڈکٹیٹرشپ ( 18ویں ترمیم )کا فوری خاتمہ کیا جائے جس نے سندھ کے شہری علاقوں کے حقوق غصب کر رکھے ہیں۔

کورونا کا خوف ایسی صورت میں ختم ہو سکتا ہے جب اسمارٹ لاک ڈاؤن کیا جائے اور اسمارٹ لاک ڈاؤن میں سندھ کی ان تمام گلیوں کو سیل کر دیا جائے جن میں کورونا وائرس کا شکار کوئی مریض موجود ہو ، صرف اس گلی کو سیل کر کے باقی تمام صوبے خصوصاََ کراچی شہر کو کھول دیا جائے تاکہ عید سے قبل لوگوں میں کچھ خوشیاں تقسیم ہو سکیں اور کورونا متاثرہ گلیوں کے علاوہ لوگ آزادانہ کاروبار زندگی رواں رکھ سکیں۔

Related Posts