غزہ کی جانب بڑھتے صمود فلوٹیلا سے دو اہم پاکستانی کیوں واپس ہوئے؟ جانئے حقائق

تازہ ترین

تازہ ترین

فلوٹیا کی ایک کشتی، فوٹو انادولو

غزہ کا محاصرہ توڑنے کیلئے روانہ ہونے والا گلوبل صمود فلوٹیلا غزہ کے سمندری پانیوں میں داخل ہونے والا ہے، کیا آپ جانتے ہیں اس قافلے میں کتنے پاکستانی رضاکار شامل تھے، اس وقت کتنے پاکستانی رہ گئے ہیں اور کتنے واپس لوٹ چکے ہیں، اور کیوں؟

غزہ کی جانب رواں عالمی قافلہ استقامت، جسے گلوبل صمود فلوٹیلا کے نام سے جانا جاتا ہے، اس وقت اپنی منزل کے قریب پہنچ چکا ہے۔ دنیا کے پچاس سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے تقریباً پانچ سو سوشل ایکٹوسٹس، فنکاروں، سیاستدانوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں پر مشتمل یہ قافلہ انسانی ہمدردی کا ایک اہم پیغام لے کر غزہ کی طرف بڑھ رہا ہے۔

غزہ جانے والا صمود فلوٹیلا اسرائیلی حدود کے قریب خطرناک زون میں داخل

پاکستان سے اس قافلے میں ابتدا میں چار افراد جماعت اسلامی کے رہنما سینیٹر مشتاق احمد خان، آزاد کشمیر کے وزیر پیر مظہر سعید شاہ، سماجی کارکن عزیر نظامی اور ڈاکٹر اسامہ ریاض شامل ہوگئے تھے۔ تاہم اب صرف دو پاکستانی سینیٹر مشتاق احمد خان اور عزیر نظامی اس قافلے کا حصہ رہ گئے ہیں۔

پیر مظہر سعید شاہ نے اس حوالے سے فیس بک پر وضاحت کردی ہے کہ وہ کیوں اور کس طرح قافلے سے بچھڑ گئے۔

ان کے مطابق کشتی کی تکنیکی خرابی، طویل انتظار اور متبادل کشتیوں کی عدم دستیابی کے باعث واپس لوٹ گئے، حالانکہ وہ قطر، ترکی، شام، یونان، اور اٹلی جیسے کئی ممالک کا سفر طے کرکے مسلسل قافلے سے جڑے رہے۔ اسی طرح ڈاکٹر اسامہ ریاض کو ویزے اور کلیئرنس کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ سے وہ بھی سفر جاری نہ رکھ سکے۔

قافلہ اب غزہ کے سمندری حدود میں داخل ہونے کے قریب ہے، دوسری طرف اسرائیل کی جانب سے اس سے نمٹنے کی تیاریاں بھی مکمل ہیں۔

Related Posts