خالق کائنات نے کائنات کی تخلیق ایک خاص توازن پر کی ہے جس میں کروڑ ہا مخلوقات پیدا کی ہیں ان میں انسان کو اشرف المخلوقات قرار دیا گیا ہے بلکہ تخلیق کائنات کا محور ہی انسان ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس مخلوق کو کسی حد تک بااختیار بنایا ہے اور باقی تمام مخلوقات انسان ہی کی ضروریات کیلئے پیدا کی ہیں کوئی مخلوق انسان کی غذائی ضروریات پوری کرتی ہیں تو کچھ اسکی زندگی کیلئے آئیڈیل ماحول کو بنائے رکھنے کیلئے فطری قوانین کے تحت مسلسل پیدائش افزائش اور فنا کے عمل سے گذرتی رہتی ہیں۔
غرض یہ کہ ہماری زمین (دنیا) آسمان سمیت کائنات کی ہر شے، سیارے، ستارے، چاند، سورج، ہوا، فضاء، سمندر، شجر، ہجر فطرت کے قائم کئے گئے اصولوں کے مطابق اپنے اپنے کام میں مصروف ہیں لیکن انسان وہ مخلوق ہے جس کو خالق نے دنیا پر اختیار دیا اور اس کی ہر دور میں اپنے انبیا کے ذریعے رہنمائی بھی فرمائی اور دنیا میں رہتے دیگر انسانوں اور دوسری مخلوق کیساتھ کس طرح کا برتاؤرکھنا ہے اور کیا چیز کھانا ہے کس سے پرہیز کرنا ہے اور سب سے بڑھ کر انسان کو علم دیا جس کی بدولت وہ تسخیر کائنات میں کامیابی سے مصروف ہے اور ترقی کی منازل طے کررہا ہے۔
تو وہیں بیشتر کام اور اعمال فطرت اور فطری قوانین کیخلاف کرنے کے سبب قدرت کے بنائے گئے اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نہ صرف فطرت بلکہ انسانی وجود کیلئے خطرہ بنتا ہے اور کائنات کے توازن کو خراب کرکے تباہی و بربادی کو دعوت دیتا ہے کیونکہ انسان کی فطرت میں سرکشی بھی ہے اور اسی سرکشی کے باعث وہ تعمیر کیساتھ ساتھ تخریب کا باعث بھی بنتا ہے، یوں جب جب کائنات یا اس دنیا کے توازن میں انسان مخل ہوتا ہے تو قدرت اس توازن کو برقرار رکھنے اور اشرف مخلوق انسان کو سمجھانے کیلئے مختلف نوعیات کے عذاب بھیجتی ہے جو کہ انسانی تاریخ کا ناقابل تردید حصہ ہیں۔
انسانی تاریخ میں وبائی امراض پھیلنے کے تقریباً 5 ہزار سال قبل بھی شواہد ملتے ہیں۔ معلوم تاریخ میں موجودہ عالمی وبائکورونا وائرس سمیت تقریباً 20 وبائیں اور عالمی وبائیں دنیا میں پھیل کر کروڑوں انسانوں کی جان لے چکی ہیں۔
جن میں 430 قبل مسیح میں ایتھنز اور اسپارٹا کی ریاستوں کے درمیان جنگ کے بعد پھیلنے والی وبائنے ایک لاکھ لوگوں کی زندگیا ں ختم کردیں جو کہ Plague of Athens کے نام سے تاریخ میں جانی جاتی ہے اس کے بعد سن 165-180 میں رومن سپاہیوں میں وبائی مرض پھیل گیا جس کے باعث تقریباً 50 لاکھ افراد مارے گئے سن 250-271 تک طاعون کی وبائنے روم میں لاکھوں افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔
اسی طرح سنہ 541-42 میں بھی بازنطینی سلطنت میں طاعون کی وبائنے لاکھوں انسانوں کو زندگی سے محروم کردیا۔ اسکے بعد 1346-53 تک بلیک ڈیتھ لاکھوں زندگیاں ہڑپ کرگئی غرض ماضی اور ماضی بعید میں پسماندہ ادوار میں بھی انسان وبائی امراض کا سامنا کرتا رہا ہے اس کے بعد نسبتاً ترقی یافتہ دور یعنی 1918 میں کورونا فیملی کا ہی H1N1 وائرس جسے عام فہم زبان میں اسپینش فلو کی وبائکا نام دیا گیا اس نے 500 ملین افراد کو متاثر کیا۔
جس کے باعث دنیا بھر میں تقریباً 5 کروڑ انسان لقمہ اجل بن گئے جن میں صرف امریکہ میں ایک لاکھ 67 ہزار سے زائد اموات ہوئیں۔ پھر 50 سال کے وقفے کے بعد 13 جولائی 1968 کو ہانگ کانگ میں نمودار ہونیوالی وبائی فلو نے 17 دن کے اندر سنگاپور ویت نام اور تین ماہ میں فلپائن، انڈیا، آسٹریلیا، یورپ اور امریکہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس میں تقریباً 10 لاکھ افراد کی جانیں ضائع ہوئیں جن میں نصف ہانگ کانگ کے باشندے تھے، اس کے بعد قلیل وقفے کے بعد 1981 ئمیں جدید اور ترقی یافتہ دنیا کو بندر سے انسان میں منتقل ہونیوالے وائرس HIV ایڈز نے ہلا کر رکھ دیا جس سے دنیا کے لاکھوں لوگ متاثر ہیں اور ہزاروں جان سے جاچکے ہیں۔
اسی طرح 2009-10 میں H1N1 وائرس المعروف سوائن فلو نے میکسیکو سے وارد ہوکر دنیا کے 104 کروڑ انسانوں کو اپنی لپیٹ میں لیکر 5 لاکھ 75ہزار چار سو افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا جبکہ 2014-16 تک ایبولا نامی وائرس کے باعث 15 ہزار سے زائد انسان اپنی جان گنواچکے ہیں۔
عصر حاضر میں جب کہ انسان عملاً ستاروں پر کمند ڈال کر لاتعداد ایجادات کیساتھ بے پناہ طبی، سائنسی اور صنعتی طور پر ترقی یافتہ ہونیکا بجا طور پر دعویدار ہے وقت موجود میں بھی دسمبر 2019 میں چین کے صوبے ہوبے کے شہر ووہان سے نمودار ہونیوالے وائرس کورونا کے سامنے ابھی تک بے بس نظر آرہا ہے کورونا وائرس گذشتہ 4 ماہ میں یورپ، امریکہ، ایشیاء سمیت تمام دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔
جس سے اب تک دنیا کے 210 ممالک میں تقریباً 20 لاکھ سے زائد لوگ متاثر جبکہ ایک لاکھ 42 ہزار سے زائد انسانی جانوں کو یہ عفریت نگل چکا ہے اور اس کے باعث عالمی معیشت تقریباً تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے، امریکہ، یورپ، مشرق وسطیٰ سمیت تمام دنیا کیساتھ تمام عسکری و معاشی طاقتوں سمیت دنیا کی واحد سپر پاور امریکہ بھی اس وائرس کی تباہ کاریوں سے لرزاں ہے۔
صرف امریکہ میں ہلاکتیں 30 ہزار کے ہندسے کو چھورہی ہیں جبکہ 10 لاکھ کے قریب امریکی اس موذی وائرس کی زد میں آچکے ہیں جبکہ اپنی ترقی اور شبانہ رونقوں پر فخر کرنیوالے ترقی یافتہ ممالک کے ناصرف عوام بلکہ حکمران بھی بے بس نظر آتے ہیں اور تقریباً پوری دنیا کے لوگ اپنے گھروں تک محدود اور محصور ہو کر رہ گئے ہیں، نہ صرف صنعتیں، مارکیٹیں، نائٹ کلبس، تفریح گاہیں سمیت تمام کاروبار بند ہیں ایک کروڑ کے لگ بھگ امریکی بیروزگار ہوچکے ہیں غرض یہ کہ اس موذی وائرس نے پوری انسانیت کو متاثر کیا ہے اور تو اور عوام کے ساتھ ساتھ بڑی طاقتوں کے حکمران بھی براہ راست اس وائرس کی زد میں آچکے ہیں۔
جس میں برطانوی وزیراعظم بورس جانسن جو کہ اسپتال میں زیر علاج ہیں جبکہ اس سے قبل ایرانی پارلیمنٹ کے کئی ارکان کی جان جاچکی ہے تو دوسری جانب سعودی عرب کے شاہی خاندان کے کئی افراد میں وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان سمیت شاہی خاندان کے تقریباً 150 سے زائد افراد قرنطینہ میں جاچکے ہیں۔
اس کیساتھ ہی کورونا وائرس نے سطح زمین کیساتھ سمندر میں موجود سپر پاورز کی ہیبت، جاہ و جلال کی علامتیں بحری بیڑوں کو بھی نہیں بخشا امریکی بحری بیڑے تھیوڈور روز ویلٹ اور فرانسیسی طیارہ بردار جہاز چارلس ڈیگال پر موجود بحریہ کی سپاہ بھی کورونا کی زد میں آچکی ہیں تو دوسری طرف نہ صرف مسلمانوں کے مقدس ترین مقامات کعبۃ اللہ، روضہ رسول، مسجد نبوی سمیت تقریباً دنیا بھر کی مساجد، ویٹی کن سمیت تمام کلیسا، گرجا گھر، مندر اور دیگر مذہبی مقامات بھی بند کردیئے گئے جو کہ معاشی و جسمانی تکلیف کیساتھ ساتھ انسانوں کیلئے روحانی اذیت کا موجب بن رہا ہے۔
اسی طرح ہمارے وطن پاکستان میں بھی یہ موذی وائرس اپنے پنجے گاڑھ چکا ہے اور اب تک تقریباً 7ہزار لوگوں میں اس وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے اور 130سے زائد پاکستانی جاں بحق ہوچکے ہیں اور تقریباً 50 زیر علاج مریضوں کی حالت تشویشناک ہے ساری دنیا سمیت پاکستان کے شہری بھی لاک ڈاؤن میں محدود ہوچکے ہیں، معیشت کی تباہی بے روزگاری اور دیگر مسائل سمیت کورونا سے نمٹنے کیلئے اپنے محدود ترین وسائل کے ساتھ نبرد آزما ہیں۔ یہ تو ہوگیا کورونا وائرس کا شکار دنیا کا اجمالی جائزہ اب دیکھتے ہیں کہ کورونا کی تباہ کاریوں سے قبل انسان، حکمران اور عالمی طاقتیں کیا کرتی رہی ہیں اور کیا کررہی ہیں۔
سب سے پہلے موجودہ دور کی واحد سپر پاور امریکہ بہادر جدید ترین اسلحہ اور اپنی بے انتہا عسکری قوت کی بدولت اور بالاتر ہونے کے زعم میں پوری دنیا پر حکمرانی قائم رکھنے اور جہانگیری کی ہوس میں عظیم جنگوں کے بعد پہلے سرد جنگ کی صورت میں اور دوسری سپر پاور سوویت یونین کے بکھر جانے کے بعد بھرپور قوت کیساتھ پوری دنیا کیلئے عموماً اور مسلم دنیا پر خصوصاً نیو ورلڈ آرڈر کے نعرے کیساتھ عذاب بن کر ٹوٹ پڑا نائن الیون کے واقعہ کے بعد تو دنیا کو اتھل پتھل کرکے رکھ دیا اور اپنے 48 ممالک پر مشتمل نیٹو اتحاد سمیت اپنے تمام لاؤ لشکر کیساتھ افغانستان جیسے ملک پر قیامت ڈھادی اور ڈیزی کٹر جیسے خوفناک بموں تک کا استعمال کیا اور ساری دنیا پر اپنی سفاکی کی دھاک بٹھانے کیلئے جو کچھ بن پڑا وہ کر گذرا اور اس نام نہاد دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کو دھمکا کر تعاون پر مجبور کیا اور اس تعاون کے باوجود افغانستان کے بعد سب سے زیادہ معاشی اور انسانی جانوں کا نقصان پاکستانیوں نے اٹھایا یوں گذشتہ 18 سالوں سے افغانستان میں لاکھوں انسانوں کو صفحہ ہستی سے مٹادیا، گویا کہ طاقت کے گھمنڈ میں سپر پاور نے انسانی جانوں کو تنکے سے زیادہ حیثیت نہ دی اور سفاکی کی بے پایاں مثالیں قائم کیں جیسے کہ ڈرون کے ذریعے انسانی جسموں کے چیتھڑے اڑاتے ہوئے اسکرین پر ویڈیو گیم کی طرح امریکی اہلکار لطف اندوز ہوتے رہے ہیں َ ڈیزی کٹر جیسے خوفناک اسلحہ کے استعمال پر اس کی تباہ کاریوں اور اپنی طاقت پر متکبرانہ فخر کا اظہار امریکیوں کیلئے عام سی بات ہے اس سے قبل عراق پر بڑی تباہی پھیلانے والے ہتھیار رکھنے کا الزام لگا کر پورے ملک کو تہس نہس کردیا اور 5 لاکھ سے زائد عراقیوں کو ہلاک کر ڈالا اس سے قبل عراق پر پابندیوں کے باعث ہزاروں عراقی بچے دودھ اور دواؤں کی قلت کے باعث دم توڑ چکے تھے۔
غرض یہ کہ طاقت کے زعم اور اپنے طاغوتی مقاصد کے حصول کیلئے امریکہ نے دنیا بھر کے انسانوں کی جان کو کبھی درخود اعتنائنہ سمجھا اور کھربوں ڈالر جنگوں اور جنگی تیاریوں اور دنیا کو سرنگوں کرنے کیلئے جھونکتا رہا اور جھونک رہا ہے، صرف امریکہ اور امریکیوں کو محفوظ تر بنانے کے نام پر لیکن اب کورونا وائرس کی وبائکے سامنے وہ سپر پاور بھی لرز رہی ہے اور اپنی عوام کو کورونا سے بچانے کیلئے دو ہزار ارب ڈالر خرچ کررہی ہے اور بے بسی کا عالم دیکھئے امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ہم نے دو لاکھ سے کم ہلاکتیں روک لیں تو اسے ہم اپنی کامیابی سمجھیں گے، اور یاد رہے کہ برطانیہ سمیت دیگر کورونا سے متاثرہ یورپی ممالک بھی انسانوں کے ہر قتل عام میں امریکہ کے شریک جرم رہے ہیں اور بارود سے انسانی جسموں کے چیتھڑے اڑانے سے لطف اندوز ہوتے رہے ہیں۔
اسکے علاوہ امریکہ و یورپ انسانی حقوق کے نام پر دنیا بھر میں عریانی و فحاشی اور ہر برے کام کی جس کی کوئی بھی مذہب اجازت نہیں دیتا ترویج میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ مثلا ً ہم جنس پرستی اور اسقاط حمل کو قانونی قرار دینا، یہ چند مثالیں صرف ایک نکتہ سمجھانے کیلئے پیش کی جارہی ہیں موجودہ وبائی بلا کے سامنے عالمی طاقتوں کی بے بسی واضح پیغام دے رہی ہے کہ انسان کتنی ہی ترقی کرلے لیکن حقیقی سپر پاور اللہ کی حکمت کے سامنے بالکل مجبور و لاچار ہے امریکی شہریوں کو چاہیے کہ اپنے حکمرانوں کو اپنے مذہب کے مطابق ہی انسانوں سے معاملات کرنے پر مجبور کریں اور اپنے ہی عقیدے کے مطابق اپنے ملکی مفاد میں پالیسیاں ترتیب دیں۔
کم از کم حضرت عیسیٰ ؑ اور بائبل کی تعلیمات پر تو عمل پیرا ہوں اور مذہب کو سیاست سے الگ رکھنے کے غیر فطری فلسفے کے باعث ہی دنیا بھر میں بدامنی پھیل رہی ہے بقول شاعر ”جداہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی“ اس کے علاوہ بزعم خود بھارت منی یا علاقائی سپر پاور بننے کا ٹائٹل پانے کیلئے نا صرف مقبوضہ کشمیر میں 72 سالوں سے ظلم و بربریت کا بازار گرم رکھے ہوئے ہے اور گذشتہ نو ماہ سے کشمیریوں پر لاک ڈاؤن کرکے مظالم کی نئی تاریخ رقم کررہا ہے تو دوسری جانب بھارت میں اپنی اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں اور عیسائیوں کو ظلم کا نشانہ بنارہا ہے کورونا وائرس کے باعث آج پورا بھارت بھی لاک ڈاؤن ہے اس میں بھی قدرت کے اشارے موجود ہیں۔ جب ظلم ایک حد سے بڑھ جاتا ہے تو اللہ کا قہر نازل ہوتا ہے۔
وطن عزیز میں بھی کورونا وائرس کا پہلے مریض کے انکشاف سے ڈیڑھ ہفتہ قبل یعنی 8 مارچ 2020ئکو شہروں کی سڑکوں پر ایک خصوصی مکتبہ فکر کی عورتیں عورتوں کے عالمی دن کے حوالے سے ”میرا جسم میری مرضی“ اور اللہ تعالیٰ کے دیگر احکامات کیخلاف بے ہودہ نعروں کے ساتھ جلوہ افروز تھیں مگر اس سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ سامنے آیا کہ انکی حمایت میں ملک کے کچھ نام نہاد لبرل بھی کھل کر سامنے آگئے جبکہ ملک کی اکثریت نے انہیں مسترد کردیا میرا جسم میری مرضی والوں کو بھی معلوم ہوجانا چاہیے کہ مرضی صرف اللہ کی ہوتی ہے انسان تو اللہ کی بے آواز لاٹھی کے سامنے بالکل بے بس و لاچار ہے ورنہ وہ معزز خواتین اپنی مرضی سے کرتے ہوئے کہیں تو نظر آتیں۔
کورونا وائرس نے جہاں دنیا کی سپر پاورز کی بے بسی کو عیاں کیا ہے لیکن ہمارے سپر سیاستدان سیاست میں کہیں بے بس نظر نہیں آتے اس وقت بھی جب وفاقی اور صوبائی حکومتیں کورونا وائرس سے قوم کو بچانے کیلئے اپنے محدود وسائل کے ساتھ سرگرداں ہیں لیکن یہ سیاستدان سیاست میں ہی مصروف ہیں اس وقت یہ ہمارا موضوع نہیں اس پر پھر کبھی بات ہوگی۔
اس وقت دنیا میں تباہی پھیلانے کیساتھ کورونا پاکستان میں بھی پنجے مضبوط کررہا ہے جس کے باعث پورا ملک تقریباً لاک ڈاؤن میں ہے، کیونکہ اس عفریت کے تدارک کیلئے ابھی تک کوئی ویکسین یا دوا ایجاد نہیں ہوئی اور اگلے ایک سال تک امید بھی نہیں تو احتیاط سماجی فاصلہ اور لاک ڈاؤن ہی علاج کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ ہمارے حکمرانوں نے صحت کے شعبے پر کبھی توجہ ہی نہیں دی جس کا شکوہ نہ صرف موجودہ حکمران کرتے ہیں بلکہ اس کا اعتراف سابق حکمران بھی کرتے ہیں کہ ہمارا صحت کا شعبہ اس قابل نہیں کہ اگر حالات بگڑتے ہیں وائرس کا پھیلا? جس تیزی سے دیگر مالک میں بڑھا ہے اگر ایسی صورتحال ہوتی ہے تو ہم نہیں سنبھال سکیں گے۔
دوسری جانب پاکستانی عوام نے بھی شاید ابھی تک کورونا وائرس کو سنجیدگی سے نہیں لیا ہے اور لاک ڈاؤن کو چھٹیوں کے انداز میں گذار رہے ہیں اور یہ حقیقت سب پر واضح ہوچکی ہے کہ موذی وائرس کے پھیلاؤ کے جو امکانات اور خدشات ہیں اس سے نمٹنے کیلئے ہم اپنے وسائل کے مطابق بالکل بھی اہل نہیں ہے مگر صرف اللہ کا کرم اور فضل ہی ہمارے ملک اور قوم کو اس وبائسے نجات دلاسکتا ہے اس کیلئے ہمیں چاہیے کہ احتیاط کیساتھ ساتھ توبہ و استغفار کرکے اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کریں۔
ہمارا گمان ہی نہیں پختہ ایمان ہے کہ پاکستان مملکت خداداد ہے اور ہماری تمام تر خامیوں اور حکمرانوں کی ملکی مفادات سے زیادہ ذاتی مفادات سمیٹنے کے باوجود مختلف نشیب و فراز دیکھنے کے باوجود اقوام عالم میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے اور اگر طبی ماہرین اور بد خواہی کے خدشات اور نامکمل تیاری کے باوجود اگر ہم کم ترین نقصان پر اس وبائسے چھوٹ جاتے ہیں تو اس میں کسی کا کوئی کمال نہیں بلکہ اللہ کا ہی کرم ہوگا اور موجودہ حکمراں جنہیں سابقہ حکمرانوں کے عوامی استرداد کے بعد حکمرانی ملی ہے اللہ انہیں سابقہ حکمرانوں کی روش پر چلنے سے بچائے اور یقین جانئے ہم ایک بار پھر کہتے ہیں کہ ہماری استعداد نہیں کہ ہم اس موذی وائرس کی تباہ کاریوں سے بچ پائیں صرف اللہ کی رحمت سے ہی ہم اس سے نجات پائیں گے اور انشائاللہ ضرور پائیں گے۔