عدالت نے جعلی دستاویزات پر قرض لینے پر 13سال قید، 2کروڑ جرمانے کی سزاسنا دی

تازہ ترین

تازہ ترین

عدالت نے جعلی دستاویزات پر قرض لینے پر 13سال قید، 2کروڑ جرمانے کی سزاسنا دی
عدالت نے جعلی دستاویزات پر قرض لینے پر 13سال قید، 2کروڑ جرمانے کی سزاسنا دی

کراچی: عدالت نے جعلی دستاویزات کے عوض قرض لینے کے جرم میں ملزمان کو 13 سال قید اور 2 کروڑ سے زائد جرمانے کی سزا سنا دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسپیشل جج بینکنگ کورڈ نے ایف آئی اے اسٹیٹ بینک سرکل کے مقدمہ نمبر 07/2011 میں ملزم سید انیس حسن اور دیگر کے خلاف کارروائی کی۔ ملزم انیس کو زیر دفعہ 420 کے تحت 6 سال قید اور 24 کروڑ 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی، کورنگی میں 6 سالہ ماہم زیادتی کے بعد قتل، مقدمہ درج

جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں ملزم کو 1 سال کی مزید قید کی سزا ہوگی۔ ملزم کو زیر دفعہ 468 کے تحت بھی مجرم قرار دیتے ہوئے 4سال قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔جرمانے کی عدم ادائیگی پر 6 ماہ کیلئے مزید قید بھگتنا ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: قرض سے پریشان شخص نے بیوی اور2 بچوں کو قتل کرکے خودکشی کر لی

ملزم کو زیر دفعہ 471 تعزیراتِ پاکستان کے تحت 3 سال قید اور 50 ہزار جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی، عدم ادائیگی کی صورت میں 6 ماہ کی مزید قید ہوگی۔ ضمانت پر موجود ملزم کا ضمانت نامہ منسوخ کرکے مچلکے خارج کیے گئے، مجرم کو تحویل میں لے لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: باپ قرض واپس نہ کرسکا، سود خور نے 8سالہ بیٹی اغواء کرکے شادی کرلی

عدالت نے ملزم کو سزا بھگتنے کیلئے جیل بھجوا دیا۔ مجموعی طور پر 13 سال قید اور 2 کروڑ 42 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ ملزم کے خلاف ایف آئی اے میں مقدمہ درج تھا۔ اس نے لاہور کی جعلی پراپرٹی دستاویزات کے عوض یو بی ایل سے قرض لیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں دھوکا دہی، عدالت نے 10 خواتین کو سزا سنا دی

Related Posts