یو ٹرن کی وجہ سے شہرت رکھنے والے سیاسی رہنما اور قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان نے پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کی تحلیل پر اپنا مؤقف تبدیل کر لیا ہے جسے مثبت یو ٹرن کہا جاسکتا ہے۔
چیئرمین تحریکِ انصاف عمران خان نے وفاقی حکومت کو الٹی میٹم دیا کہ یا تو بیٹھ کر بات چیت کر لیں اور عام انتخابات کی تاریخ دیں یا پھر ہم اسمبلیاں تحلیل کردیتے ہیں۔
پنجاب کی پارلیمانی پارٹی سے خطاب کے دوران عمران خان نے کہا کہ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ یا تو یہ ہونا چاہئے کہ حکومت ہمارے ساتھ بیٹھے (اور انتخابات کی تاریخ دے) یا پھر ہم اسمبلیاں تحلیل کردیں گے۔ اس صورت میں خیبر پختونخوا اور پنجاب میں الیکشن ہوں گے۔
راولپنڈی لانگ مارچ کے دوران عمران خان نے پی ٹی آئی اراکین اور دیگر مظاہرین سے پرجوش خطاب میں کہا کہ میں اس کرپٹ نظام کا حصہ نہیں بنوں گا لیکن اب اسی کرپٹ نظام سے الیکشن کی تاریخ مانگی جارہی ہے اور اسمبلیاں تحلیل کرنے میں لیت و لعل سے کام لیا جارہا ہے۔
اچھی علامت یہ ہے کہ عمران خان ایسی سیاسی چالیں چلتے نظر آرہے ہیں۔ انہیں علم ہے کہ الیکشن کی تاریخ راولپنڈی سے نہیں ملے گی اور پاک فوج میں کمان کی تبدیلی بھی تحریکِ انصاف کے چیئرمین کو دیگر آپشنز تلاش کرنے پر اکسا رہی ہے۔
خان صاحب نے خیبر پختونخوا اور پنجاب کی پارلیمانی پارٹی اور پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے متعدد بار ملاقات کی لیکن اسمبلیوں کی تحلیل کی واضح تاریخ دینے میں ناکام ہیں اور حکومت کو مذاکرات کی پیشکش کر ڈالی۔
دوسری جانب مونس الٰہی کے حالیہ انٹرویو سے پی ٹی آئی اور ق لیگ کے مابین اختلافات کی قیاس آرائیاں بھی پیدا ہوئی ہیں۔ سابق وفاقی وزیر مونس الٰہی کا اپنے انٹرویو میں کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ بجٹ پیش کرنے کے بعد پنجاب اسمبلی کو تحلیل کیا جائے اور سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے خلاف پی ٹی آئی بیانیے کی بھی نفی کر ڈالی۔
ق لیگی رہنما مونس الٰہی نے دعویٰ کیا کہ سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ق لیگ کو مشورہ دیا تھا کہ وہ وزیر اعلیٰ کے معاملے پر پی ٹی آئی کی حمایت کریں۔
مونس الٰہی نے کہا کہ ہمارا اسٹیبلشمنٹ کی نئی قیادت سے کوئی رابطہ نہیں، جو ہٹ گیا، وہ برا تھا، میں اس سوچ کے خلاف ہوں۔ بحث کیلئے تیار ہوں کہ باجوہ صاحب غدار کیسے ہو گئے؟ انہوں نے تحریکِ انصاف کیلئے کیا کیا نہیں کیا؟ جب انہوں نے دریا کا رخ پی ٹی آئی کی طرف موڑا، تو کیا اس وقت وہ درست تھے؟
انہوں نے کہا کہ رجیم چینج کے متعلق جو کچھ سنا اس میں کچھ نہ کچھ تو تھا۔ سازشی بیانیے کے معاملے پر گڑ بڑ تھی۔ ہر ادارے کو اپنا کام کرنا ہوگا۔ اسمبلیاں تحلیل کرنے کا حتمی فیصلہ عمران خان ہی کریں گے۔
ق لیگ کے ساتھ اختلافِ رائے ہی شاید عمران خان کو یو ٹرن لینے اور حکومت کو مذاکرات کی دعوت دینے پر مجبور کر رہا ہوجو ایک نیک شگون قرار دیا جاسکتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی معاملات پر مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر گفتگو ہو اور سابق وزیر اعظم عمران خان کا امپائروں کی انگلیاں چھوڑ کر سیاست کا یہ انداز اختیار کرتے دیکھنا کسی دلفریب منظر سے کم نہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں