پاکستان کا ہمسایہ ملک چین اس اعتبار سے ایک مختلف ملک کہا جاسکتا ہے کہ یہاں بڑے پیمانے پر مظاہرے شاذ و نادر ہی ہوتے ہیں جہاں حکومت سخت ترین اقدامات اٹھا کر بھی نظم ونسق برقرار رکھتی ہے۔
کورونا وائرس سے متعلق سخت لاک ڈاؤنز نے بظاہر جغرافیائی حدود کو عبور کرتے ہوئے چین بھر میں بڑی تعداد میں مظاہروں کو جنم دیا ہے۔ وائرس پر قابو پانے کے لیے چین کے اقدامات دنیا میں سخت ترین اقدامات قرار دئیے جاسکتے ہیں۔
طویل عرصے سے جاری وقفے وقفے سے لاک ڈاؤن اور پابندیوں کے بعد سخت اقدامات سے لوگوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ مظاہروں کی تازہ ترین لہر کا محرک ارومچی شہر میں لگنے والی آگ معلوم ہوتی ہے۔
مذکورہ آتشزدگی کے نتیجے میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ مغربی میڈیا کے مطابق چینی میڈیا نے احتجاج پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ یہ سانحہ حکام کی جانب سے مبینہ طور پر ناکافی ردعمل کی وجہ سے ہوا۔
بظاہر لاک ڈاؤن کی وجہ سے ردِ عمل ناکافی رہا تاہم چینی ریاست اس معاملے کی تردید کرتی ہے۔ اس سے قبل ژینگزو میں آئی فون پلانٹ کے کارکنوں نے کورونا کی روک تھام کے سخت اقدامات کی وجہ سے ظاہری طور پر پولیس کیلئے مشکلات پیدا کیں۔
حکومتِ چین سوشل میڈیا سے مظاہروں کے تمام تذکروں کو ہٹانے کے لیے حرکت میں آگئی جبکہ غیر ملکی میڈیا کے مطابق سیکیورٹی ایجنٹس مظاہروں میں شرکت کرنے والوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
اگرچہ زیرو کورونا پالیسی اموات کو کم رکھنے میں کامیاب رہی ہے، لیکن یہ بہت زیادہ قیمت پر آئی ہے، کیونکہ لوگوں کے معمولات کو بری طرح سے روک دیا گیا ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ ارمچی کا واقعہ وہ آخری چنگاری تھی جس سے ہنگامے پھوٹ پڑے، اور یہ احتجاج مایوسی کا مظہر ہے۔ معاملے کو بھڑکنے سے روکنے کے لیے چین کو کورونا کی روک تھام کیلئے اپنے سخت اقدامات پر نظرثانی کرنی چاہیے۔
پہلے ہی ایسی اطلاعات ہیں کہ حکام لاک ڈاؤن میں نرمی کر رہے ہیں، جو ایک خوش آئند علامت ہے۔ مزید برآں، لوگوں کو اپنے جذبات کا اظہار کرنے کی اجازت دینے کی ضرورت ہے۔
ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ چین اس بات کو سمجھے کہ احتجاج کو روکنے کے لیے سخت طریقے استعمال کرنے کے نتیجے میں قلیل مدتی امن قائم ہو سکتا ہے، لیکن ریاست کو طویل مدتی احتجاج کا بھی سامنا ہوسکتا ہے۔
اگرچہ یہ فرض کرنا بے بنیاد ہوگا کہ چین مغرب میں نظر آنے والی سیاسی آزادی کی اجازت دے گا، لیکن چینی حکومت کو بہر حال لوگوں کی شکایات کو سننا چاہیے، اور انھیں صرف آزادئ اظہارِ رائے کیلئے سزا نہیں دینی چاہیے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں