ٹرمپ قاتلانہ حملہ ۔۔۔ سیاسی نفرتوں کا نتیجہ

تازہ ترین

تازہ ترین

آج علی الصبح جب آنکھ کھلی تو ٹی وی چینلز پر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کی خبریں گردش کر رہی تھیں۔ امریکا میں اس سے قبل بھی ایسے واقعات ہوچکے ہیں کہ صدارتی انتخاب کی مہم کے دوران صدارتی امیدوار پر قاتلانہ حملے کیے گئے لیکن 1912 سے لے کر 1916 تک تقریباً 11 ایسے قاتلانہ حملوں میں سے ایک بھی اتنا سنگین نہیں تھا جتنا کہ ڈونلڈ ٹرمپ پر 13 جولائی 2024 کو کیا گیا موجودہ قاتلانہ حملہ سنگین ترین قرار دیا جاسکتا ہے، جس میں ڈونلڈ ٹرمپ معجزانہ طور پر بچ گئے، اگر وہ تقریر کے دوران اپنا سر آدھا انچ بائیں طرف نہ کرتے تو گولی ان کے سر میں اتر جاتی۔

پچھلے چند گھنٹوں سے ایف بی آئی، اسٹیٹ پولیس اور باقی قانون نافذ کرنے والے ادارے اس تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں کہ قاتل کی شناخت اور ارادوں سے متعلق تحقیقات کی جائیں اور اطلاعات موصول ہورہی ہیں کہ قاتل کی شناخت ہوچکی ہے لیکن جاری تفتیش کے باعث پنسلوانیا کی اسٹیٹ پولیس نے حملہ آور کا نام ظاہر کرنے سے اجتناب کیا ہے اور ٹرمپ پر حملہ ہوتے ہی سیکرٹ سروس پولیس نے جوابی فائرنگ کرکے حملہ آور کوموت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔

تاہم اس سے قبل ہی ماہر نشانے باز قاتل ڈونلڈ ٹرمپ پر متعدد گولیاں برسا چکا تھا، جس سے سابق صدر اور صدارتی امیدوار بال بال بچ گئے۔ اگر گولی ایک انچ بھی دائیں جانب ہوتی تو ڈونلڈ ٹرمپ کے سر پر لگ سکتی تھی جس سے فوری طور پر ان کی موت بھی ہوسکتی تھی جو امریکی عوام کیلئے کسی عظیم سانحے سے کم نہ ہوتا۔ ماضی میں 4 امریکی صدارتی امیدواروں  پر بھی قاتلانہ حملے ہوچکے جن میں سے 3 صدارتی امیدوار الیکشن مہم کے دوران قتل ہوچکے ہیں۔

مزید یہ کہ 1868 سے لے کر 1972 تک 3 صدارتی امیدواروں کے قتل کے بعد ایک اور صدارتی امیدوار جارج ویلز 1972 میں  میں گولی لگنے سے ہمیشہ کیلئے مفلوج ہوگیا۔ جس طریقے سے ڈونلڈ ٹرمپ کو جلسے سے سیکرٹ سروس نے نکالا، وہ واقعی قابلِ تعریف ہے، لیکن یہاں ایک بڑا سوال یہ بنتا ہے کہ جلسے سے تقریباً! 100گز کے فاصلے پر ایک منزلہ عمارت پر ایک نوجوان  20 سالہ شخص کیسے رائفل لے کر پہنچ گیا؟

سوال یہ بھی بنتا ہے کہ کیسے اس شخص نے جلسے میں شرکائے ریلی سے خطاب کرنے والے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر گولیاں چلا دیں؟ جبکہ سیکرٹ سروس کے اہلکار مختلف اونچائیوں پر پہلے سے موجود تھے، لیکن وہ بلڈنگ جہاں سے قاتل نے حملہ کیا، وہ نظر انداز ہوئی۔ پھر بھی یہ بات بھی احسن ہے کہ ایک دوسری بلند عمارت پر جو سیکرٹ سروس کا نشانے باز اہلکار موجود تھا، اس نے  گولی مار کر قاتلانہ حملہ کرنے والے شخص کو ہلاک کردیا۔اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ مزید کئی گولیاں برساتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ اور مجمعے میں موجود کئی لوگوں کی جان لے سکتا تھا۔

تجزیہ کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ سیاست میں پولرائزیشن کا عنصرجب  آجائے تو اس قسم کے واقعات رونما ہوتے ہیں، جیسا کہ امریکی ریاست پنسلوانیا میں ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کی صورت میں  ہوا۔ظاہر ہے  ایک 20 سالہ بظاہر امریکی نوجوان کے ذہن کو اس قدر زہر آلود کیسے کیا گیا کہ وہ ایک سابق امریکی صدر پر گولیاں برسا کر ان کے قتل کی کوشش کرے؟ تفتیش کے بعد اس پر مزید تبصرے بھی کیے جاسکتے ہیں لیکن  ظاہری طور پر امریکی تاریخ میں پہلی مرتبہ آج سے 8 سے 10 سال قبل نفرتوں کی سیاست کا بیج بونا شروع کیا گیا ۔

اس وقت سے نفرت کی سیاست کے باعث امریکا میں مختلف سیاسی جماعتوں، گروہوں اور مکتبہ فکر  کے نوجوانوں کے دلوں اور دماغوں میں بھی  نفرتیں بھرنا شروع ہوئیں جس کا نتیجہ آج اس سنگین واقعے کے رونما ہونے کی صورت میں نکلا ہے۔

پاکستان میں بھی پچھلے چند برسوں سے نفرتوں اور گالم گلوچ کی سیاست بام عروج پر ہے اور ہماری یہ  تمنا اور دعا ہے کہ اللہ کرے کہ  نفرتوں کے یہ بیج ان ناجوانانِ ملت  کے ذہنوں اور دلوں میں اس حد تک نہ سمو جائیں کہ وہ ان حرکات پر اتر آئیں، جیسا کہ پنسلوانیا میں ہوئیں۔

ہمارے سیاست دانوں کو اس بات کا ادراک ہونا چاہئے کہ نفرتوں کی سیاست کے بیج بونے سے قوم کے ذہنوں کی زہر آلودگی اتنی بڑھ جاتی ہے کہ اس زہر کو نکالنے میں برسہا برس درکار ہوتے ہیں۔ ہمارے نوجوان اپنے لیڈران اور سیاست دانوں کی تقلید کی کوشش اور ان کے اچھے اور برے الفاظ کو دہرانے اور اپنانے کی کوشش کرتے ہیں جس سے معاشرے کی ایک شکل و صورت تخلیق ہونے لگتی ہے کیونکہ نوجوان نسل ہی ہماری اس قوم کا مستقبل اور اثاثہ ہیں۔

پاکستان میں نفرتوں کی سیاست جو دشمنیوں میں تبدیل ہو جائے پہلے کبھی نہ تھی لیکن پچھلی ایک دہائی سے جو سلسلہ چل نکلا ہے، وہ ایک تاریک اور منفی رنگ میں بدلتا جارہا ہے۔

دوبارہ اگر ٹرمپ کی بات کی جائے تو ان کا فوری ردِ عمل یہ تھا کہ انہوں نے ایک ہیرو جیسا تأثر دیتے ہوئے  مکے لہرائے، اعتماد کا مظاہرہ کیا اور نعرہ لگایا کہ فائٹ فائٹ اور فائٹ، جبکہ ان کی حفاظت کیلئے سیکرٹ سروس کے اہلکاروں نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو حصار میں لے رکھا تھا، اس کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی نعرے بازی اور مکے لہرانے کا عمل جار ی رکھا۔

رواں برس امریکا میں ہونے والے صدارتی انتخاب کیلئے ڈونلڈ ٹرمپ اور جوبائیڈن کے مابین جو صدارتی مباحثہ ہوا، اس میں پہلے ہی ڈونلڈ ٹرمپ کی پوزیشن مضبوط تھی اور اب قاتلانہ حملے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے جس قومی جوش و جذبے سے مکے لہرائے اور نعرے بازی کی، اس سے صدارتی مہم میں ڈونلڈ ٹرمپ کی پوزیشن اور بھی مضبوط ہوتی نظر آتی ہے۔

اور اب محسوس ایسا ہوتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکا کا نیا صدر بننے سے روکنا نہ صرف مشکل بلکہ ناممکن ہوتا چلا جارہا ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ آنے والے ایک دو دن میں پول سروے کے مطابق ٹرمپ کی ریٹنگ پہلے سے کئی گنا زیادہ بڑھ سکتی ہے۔

اگر پاکستان کی بات کی جائے تو یہاں اس بات کا افسوس کے ساتھ تذکرہ کیا جاسکتا ہے کہ ٹرمپ پر حملے کے چار سے پانچ گھنٹے بعد تک حکومت پاکستان کی طرف سے کوئی بیان نہیں دیا گیا جو کہ بڑے ممالک کے درمیان اچھی ساکھ کا نمونہ ہوتا ہے اور محسوس یوں ہوتا ہے کہ ہمارے لیڈران رات کو تھک ہار کر جب سو جاتے ہیں تو ان کے ہاں کوئی ایسا نظام نہیں جو ان کو جگا کر بتائے کہ دنیا میں کیا ہورہا ہے اور اس پر پاکستان کی جانب سے کیا پیغام جانا چاہئے۔

ضروری ہے کہ ہم خارجہ پالیسی کے ان محرکات پر نظر رکھیں اور امریکا سمیت دنیا کے دیگر ممالک سے تعلقات کو فروغ دینے کیلئے لحظہ لحظہ رنگ بدلتی ہوئی دنیا سے باخبر رہیں اور ان کی حساسیت سے فائدے اور نقصان کو دیکھتے ہوئے فی الفور اپنا ردِ عمل ظاہرکریں تاکہ ہماری گڈ ول ابھی سے بہتر ہونا شروع ہوجائے۔ ہم بہت سارے معاملات میں بہت دیر کردیتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہم تنزلی کے اس دائرے سے نکلنے میں مشکلات کا شکار ہورہے ہیں۔

خدا تعالیٰ ہمیں وہ عقل و شعور اور فہم و فراست عطا فرمائے کہ ہم اپنےبیرونی اور اندرونی معاملات سے اچھے طریقے سے نبرد آزما ہوسکیں۔ (آمین)

Related Posts