لاہور کی مقامی عدالت نے جمعرات کو مشہور یوٹیوب سٹار ڈکی بھائی کی جوا ایپ کے پروموشن سے متعلق کیس میں ضمانت کی درخواست مسترد کردی۔ سیشن جج نے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے پیش کردہ ثبوتوں کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ سنایا جن کے مطابق ڈکی بھائی نے غیر قانونی ایپ کی تشہیر کی۔ یہ کیس سوشل میڈیا کی معروف شخصیات کی شمولیت کی وجہ سے خاصی توجہ حاصل کر رہا ہے۔
اس سے قبل 29 ستمبر کو عدالت نے ڈکی بھائی اور ان کی اہلیہ عروبہ جتوئی کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ملتوی کردی تھی۔ اس وقت تفتیشی افسر نے ایڈیشنل سیشن جج ڈاکٹر ساجدہ احمد کے سامنے پیش ہو کر تفتیش مکمل کرنے کے لیے مزید وقت مانگا تھا۔ عدالت نے یہ درخواست قبول کرتے ہوئے افسر کو ہدایت کی تھی کہ اگلی سماعت پر مکمل تفتیشی ریکارڈ پیش کیا جائے جس نے آج کے فیصلے پر اثر ڈالا۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق ڈکی بھائی کی گرفتاری کے بعد ضمانت کی درخواست اور عروبہ جتوئی کی عبوری ضمانت کی درخواست زیر غور تھی۔ تاہم، ایف آئی اے نے جوا ایپ کی تشہیر میں فعال کردار کے متعدد ثبوت پیش کیے جسکے بعد جج نے ڈکی بھائی کی درخواست مسترد کردی۔ نتیجتاً، وہ عدالتی ریمانڈ پر جیل میں رہیں گے۔
ایف آئی اے نے اس ایپ کے آن لائن بیٹنگ اور دھوکہ دہی سے متعلق سرگرمیوں سے تعلق کی تحقیقات شروع کیں جن سے عوام کو بھاری مالی نقصانات اٹھانے پڑے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ڈکی بھائی سمیت کئی دیگر سوشل میڈیا انفلوئنسرز نے اس ایپ کی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر فعال طور پر تشہیر کی جس سے ان کے فالوورز میں اس کا استعمال بڑھا۔ تفتیش کاروں کے مطابق، اس سے ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کے واضح ثبوت ملے۔
گندی ویڈیوز اور غیر قانونی کام پر شرمندہ ہوں؛ ڈکی بھائی نے قوم سے معافی مانگ لی
الزامات کے باوجود ڈکی بھائی (سعد) اور عروبہ نے ایپ کے غیر قانونی ہونے سے لاعلمی کا دعویٰ کیا ہے۔ ان کا دفاع ہے کہ انہوں نے ایپ کی دھوکہ دہی کی نوعیت سے ناواقفیت کی وجہ سے اسکی تشہیر کی تاہم استغاثہ کا اصرار ہے کہ پیش کردہ ثبوت واضح طور پر دانستہ شمولیت کو ظاہر کرتے ہیں، جس سے یہ کیس پاکستان کے بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل انفلوئنسرز کے شعبے میں ذمہ داری کے تعین کے لیے ایک اہم امتحان بن گیا ہے۔
اس سماعت نے سوشل میڈیا پر مواد بنانے والوں کی ذمہ داریوں پر شدید بحث چھیڑ دی ہے خاص طور پر جب ایسی تشہیر عوام کو گمراہ کر سکتی ہے۔ ضمانت مسترد ہونے کے بعد کیس مزید ثبوتوں اور گواہیوں کے ساتھ آگے بڑھے گا اور یہ متنازع معاملہ توجہ کا مرکز بنا رہے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








