تباہی کے دہانے پر کھڑا یورپ

تازہ ترین

تازہ ترین

جب اس سال 24 فروری کی صبح روس نے یوکرین کے خلاف فوجی آپریشن کا آغاز کیا تو عالمی میڈیا کی سکرینوں پر جوبائیڈن نامی 79 سالہ ٹارزن نمودار ہوئے۔

ٹارزن نے اعلان کیا کہ ہم روس کے خلاف اتنی سخت پابندیاں لائیں گے جو تاریخ میں کبھی نہ دیکھی گئی ہوں گی۔ پھر یہ پابندیاں مرحلہ وار عائد بھی کردی گئیں۔حسب روایت یورپ نے ٹارزن کو اپنا امام مان کر اس کیس میں بھی ان کی تقلید شروع کردی۔ مغرب کی بارود کی جنگ میں مہارت ہم افغانستان جیسے پتھر کے دور والے ملک میں دیکھ چکے جب 20 سال ناک رگڑنے کے بعد انہیں دوحہ مذاکرات کی صورت باعزت انخلاء کی راہیں ڈھونڈنی پڑیں۔ اور جب اس معاہدے پر دستخط ہوگئے تو دنیا کو باور یہ کرایا جیسے کوئی بڑی کامیابی حاصل کرلی گئی۔ حالانکہ اس معاہدے کا سادہ ترین یک سطری خلاصہ بھی صرف اتنا تھا کہ جنہیں مٹانے آئے تھے انہی کو ملک سپرد کرکے چلتے بنے۔

سو ان کے دعوے جو بھی ہوں زمینی حقیقت یہ ہے کہ ان کی عسکری مہارت کا محض تصور بھی کسی سنگین مذاق سے کم نہ ہوگا۔ ان کی اصل مہارت پروپیگنڈا وار کی ہے۔ چنانچہ آپ نے نوٹ کیا ہوگا کہ یہ بہت سی چھوٹی سکرینوں کے بیچ ایک بڑی سکرین سجا کر ایک نیم تاریک سےہال میں فوجی یونیفارم میں کچھ جوانوں کو کمپیوٹر پر بٹھا دیتے ہیں۔ ان کمپیوٹر آپریٹرز کی پشت پر ایک جنرل کھڑا کر دیتے ہیں اور اس جنرل کے ارد گرد دو چار بریگیڈئر اور کرنل بھی سجا دیتے ہیں۔ اور اس مقام کو وار روم کا نام دے دیتے ہیں۔ جس درجے کا یہ اصلی وار روم ہوتا ہے اس سے بہتر کوالٹی کا تو ہالی ووڈ کے سیٹ ڈیزائنر تخلیق کر لیتے ہیں۔ اس وار روم میں کھڑا جنرل بہت سنجیدگی کے ساتھ انکشاف کرتا ہے۔

”ہم نے آج ایک ہائی ویلیو ٹارگٹ کو ہلاک کردیا ہے جس کے درجنوں مددگار ملیامیٹ ہوچکے ہیں۔“

لیکن ایک گھنٹے بعد خبر بریک ہوتی ہے کہ امریکی طیاروں کا بارات پر حملہ، درجنوں خواتین اور بچے بھی مارے گئے۔ اور یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ جس ہائی ویلیو ٹارگٹ کو مارنے کا جنرل صاحب نے دعوی فرمایا تھا اس کی ان کے پاس سٹیلائٹ، ڈرون کی آنکھ اور گراؤنڈ انٹیلی جنس سے پکی اطلاع کا دعویٰ بھی تھا۔ گویا وقتاً فوقتاً ان کی پروپیگنڈا وار کا حال بھی ان کی عسکری جنگ جیسا ہی سامنے آجاتا ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ “اظہار رائے کی آزادی” کے دعویدار مغرب نے یوکرین میں فوجی آپریشن کے خلاف اپنی پروپیگنڈا وار کا آغاز ہی اس اقدام سے کیا تھا کہ نہ تو مغرب میں روسی ٹی وی چینلز دکھانے کی اجازت ہوگی اور نہ ہی یوٹیوب پر کسی روسی ٹی وی کا چینل رہنے دیا جائے گا۔ اور پھر اس پر عمل بھی کردیا گیا۔ گویا اس بار سب سے پہلے لبرلزم کے سب سے بڑے 3 نعروں میں سے ایک نعرہ ہی جنگ کا پہلا شہید ثابت ہوا۔ یوں شروع ہوا یکطرفہ پروپیگنڈا۔ سی این این کے یوٹیوب چینل پر آج بھی وہ کلپ دیکھا جا سکتا ہے جس میں آپریشن کے پہلے ہفتے کے دوران ہی یہ دعویٰ فرما دیا گیا تھا کہ روسی عوام پیوٹن کے اقدام پر سخت غصے میں ہیں۔ عوام کسی بھی وقت سڑکوں پر آکر پیوٹن کا دھڑن تختہ کرنے والے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ جب 79 سالہ ٹارزن نے اعلان کیا تھا کہ ہم تاریخ کی بدترین پابندیاں لگا کر پیوٹن کا جینا حرام کردیں گے تو نام نہاد عسکری دانشور قطار در قطار نیوز چینلز پر آکر بتاتے رہے کہ پیوٹن تو اب گیا کہ تب گیا۔مگر اس آپریشن کے آغاز کے نویں ماہ کا منظر یہ ہے کہ روسی صدر پیوٹن تو سکون سے ہے جبکہ ماتم یورپ میں شروع ہوگیا ہے۔

ہوا وہی جس کا قوی امکان تھا۔ روس پر پابندیوں کے معاملے میں امریکہ کی ہاں میں ہاں ملانے والے یورپ نے یقیناً یہ سوچ رکھا تھا کہ ان پابندیوں کے بعد روس کے لئے یورپ کو فروخت کی جانے والی گیس مزید اہمیت اختیار کر جائے گی کیونکہ یہ اس کی آمدن کا واحد بڑا ذریعہ رہ جائے گی۔ یہ احمقانہ خیال یورپین ممالک میں اس حد تک موجود تھا کہ خود انہوں نے روس کو یہ دھمکی دے ڈالی تھی کہ ہم تمہاری گیس خریدنا بھی بند کرسکتے ہیں۔ ایک نرا بلف جس کا انجام وہی ہوا جو ایسے بلف کا ہوسکتا تھا۔ جوں ہی موسم سرما سر پر آیا روس نے یورپ کو گیس کی سپلائی روک دی۔

نتیجہ یہ کہ یورپ میں عوامی سطح پر نہ تھمنے والی مہنگائی اور قومی سطح پر یورپین ممالک کی معیشت ہی تباہی کے لگ بھگ یقینی خطرے سے دوچار ہوگئی ہے۔ روسی گیس کا سب سے بڑا خریدار جرمنی ہے۔ اور جرمنی صرف یورپ کی ہی سب سے بڑی معیشت نہیں بلکہ دنیا کی چوتھی بڑی معیشت ہے۔ اس معیشت کی 56 فیصد گیس کا انحصار روس پر ہو اور وہاں سے گیس آنی بند ہوجائے تو نتیجہ کتنا مہلک ہوسکتا ہے یہ اندازہ لگانا دشوار نہیں۔ مگر زمینی حقائق کی موجودگی میں اندازے کیوں لگائے جائیں؟ صورتحال یہ ہے کہ جرمنی میں مہنگائی کی شرح میں 10 فیصد اضافہ ہوگیا ہے۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ روز مرہ استعمال کی اشیاء ہی مہنگی ہوگئی ہیں بلکہ اب جرمنی کو ذخیرہ کی گئی گیس مہنگے داموں شہریوں کو فراہم کرنی پڑے گی اور متبادل ذرائع سے مہنگی گیس بھی خریدنی پڑے گی۔موسم سرما میں گیس یورپ کی شدید ترین ضرورت یوں ہوتی ہے کہ پورا یورپ ہی برفباری کی زد میں ہوتا ہے۔ جب مہنگائی آسمان سے باتیں کرنے جا رہی ہو کارخانوں کو بجلی اور گیس بھی مہنگی مل رہی ہو تو یورپین شہری کی قوت خرید برقرار رہ پائے گی؟

جرمنی نے اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے 200 ارب یورو کے سبسڈی پلان پر عملدرآمد شروع کردیا ہے۔ یہ سبسڈی عام شہریوں کو بھی دی جائے گی اور کارباری طبقے کو بھی۔ مگر اس سبسڈی پر جرمنی کو یورپ کے باقی ممالک کے سخت ردعمل کا سامنا ہے۔ اس ردعمل کی وجہ ہے یہ کہ یورپین یونین کے کسی بھی ملک کا اس یونین کے کسی بھی دوسرے ملک میں اپنی مصنوعات و پیداوار فروخت کرنا بالکل ایسا ہی ہوتا ہے جیسے ہمارے ہاں صوبوں کے مابین تجارت۔ سو روسی گیس بند ہونے کے بعد کی صورتحال میں دیگر یورپی ممالک میں اگر ڈبل روٹی کی قیمت دس سے پندرہ روپے پر پہنچ گئی ہے تو یہی ڈبل روٹی جرمنی میں بدستور 10 روپے کی ہوگی کیونکہ وہاں حکومت سبسڈی دے رہی ہے۔ اور یہ ڈبل روٹی اگر یورپ کے کسی بھی ملک کی دکان میں 10 روپے کی دستیاب ہوگی تو اس ملک کا شہری اپنے ملک میں تیار ہونے والی وہ ڈبل روٹی کیوں خردیے گا جو 15 روپے کی ہے؟ جس کا سادہ مطلب یہ ہوا کہ جب جرمن مصنوعات دیگر یورپین ممالک میں ان ممالک کی اپنی مصنوعات سے سستی دستیاب ہوں گی تو اس کے نتائج کا خلاصہ یہ ہے کہ ان ممالک کی صنعت کو روسی گیس کی بندش کے بعد دوسرا بڑا خطرہ جرمنی کی صورت بھی لاحق ہوگیا ہے۔ سستی جرمن مصنوعات ان ممالک کی صنعت کا پہیہ روکنے کے لئے کافی ہیں۔

یورپین یونین میں 27 ممالک ہیں۔ جبکہ دنیا کی دس بڑی معیشتوں میں صرف تین یورپین ممالک شامل ہیں۔ جرمنی کے بعد برطانیہ اور فرانس ہی یورپ کی بڑی معیشتیں ہیں۔ اور یہ دونوں ممالک روسی گیس کے بڑے خریدار بھی نہیں ہیں۔ گویا یہ روسی گیس کی بندش سے سب سے کم متاثر ہونے والے ممالک ہیں۔ چنانچہ ان کی معیشت کو خطرہ بھی کم لاحق ہے۔ مگر اس سے بھی دلچسپ بات یہ ہے کہ برطانیہ تو یورپین یونین میں ہی اب نہیں ہے لہٰذا وہ جرمنی کی سبسڈی کے خلاف شور مچانے کی پوزیشن میں ویسے بھی نہیں ہے۔ اس صورتحال میں یورپین یونین کے ممالک کے پاس ایک آپشن یہ ہے کہ وہ یونین کے طے شدہ چارٹر سے انحراف کرتے ہوئے جرمن مصنوعات پر ڈیوٹی لگا دیں۔ مگر یہ کوئی حل نہیں کیونکہ جواباً جرمنی بھی یہی قدم اٹھائے گا تو ان ممالک کے ہاتھ سے جرمن مارکیٹ نکل جائے گی جویورپ کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے۔

دوسرا آپشن یہ ہے کہ یورپین یونین کے باقی ممالک بھی جرمن لیول کی سبسڈی دے دیں۔ اور یہ وہ چیز ہے جو ہر یورپین ملک کے لئے ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ممالک مل کر جرمنی پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ سبسڈی واپس لے۔ مگر جرمنی کے لئے ایسا کرنا ممکن ہی نہیں۔ وجہ عرض کی جا چکی کہ روسی گیس کی بندش سے سب سے زیادہ وہی متاثر ہوا ہے۔ کیونکہ اس کی 56 فیصد گیس روس سے آرہی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ روسی گیس کی بندش کے بعد جرمنی میں انرجی کی قیمتوں میں دس گنا اضافہ ہوا۔ اور حکومت کے پاس سبسڈی دینے کے سوا کوئی چارہ ہی نہ تھا۔ چنانچہ اب بظاہر دو ہی راستے بچے ہیں۔ پہلا یہ کہ جرمنی یورپی یونین کے دیگر ممبر ممالک کے دباؤ سے نکلنے کے لئے یورپین یونین ہی چھوڑ دے۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ یورپین یونین اجتماعی طور پر یہ فیصلہ کرلے کہ یوکرین کو نیٹو کا ممبر بنوانے کی امریکی خواہش کی تکمیل کے لئے وہ خود کو تباہ نہیں کرسکتے۔ اگر یہ فیصلہ ہوجاتا ہے تو پھر ان ممالک کو اعلان کرنا پڑے گا کہ ہم اس کھیل سے باہر ہیں۔ ہم روس پر لگائی گئی پابندیاں اٹھا رہے ہیں اور جواباً روس سے بھی یہی توقع رکھتے ہیں۔ اگر یہ ہوگیا تو امریکہ کی عالمی اجارہ داری زمین بوس نظر آئے گی۔ دیکھنا بس یہ باقی ہے کہ پیوٹن اور یورپین قیادت میں سے اعصاب پہلے کس کے چٹختے ہیں۔ زمینی صورتحال تو یہ ہے کہ اکیلے پیوٹن نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے 8 ماہ میں ہی ہوش اڑا دیئے ہیں۔

Related Posts