الحاد کا سد باب کیسے کریں ؟

تازہ ترین

تازہ ترین

سوشل میڈیا دور نے پاکستان میں جو سب سے بڑا نقصان پہنچایا ہے وہ یہ ہے کہ لوگوں نے مطالعہ ترک کردیا۔ یوں 2005ء کے آس پاس یا اس کے بعد بالغ ہونے والوں کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہ کسی بھی درجے کا علمی شعور نہیں رکھتے۔ چنانچہ ان میں سے جو مذہبی فکر سے وابستہ ہیں ان سے کچھ اس طرح کے جملے بکثرت سننے کو ملتے ہیں

“ہمیں الحاد کا راستہ روکنا ہوگا۔۔۔۔۔۔ الحاد کا سد باب کیسے کریں ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔ الحاد کا راستہ نہ روکا گیا تو یہ یہ ہو جائے گا”

اور یہ جملے ہم سنتے بھی نوجوانوں سے ہیں۔ یعنی وہی نسل جو مطالعے سے محروم ہے۔

 2014ء میں ہم فیس بک پر سرگرم ہوئے تو چند ہی روز گزرے تھے کہ ہمارے ایک فالوؤر نے انبکس کیا

“آپ مجھے باصلاحیت لگتے ہیں۔ اگر آپ پر تھوڑی محنت کی جائے تو آپ میں رد الحاد کی صلاحیت پیدا ہوسکتی ہے۔ اس کے لئے ۔ہم نے ایک فیس بک گروپ بنایا ہے، جہاں ہمارے استاد فلسفے اور منطق کی مدد سے رد الحاد سکھاتے ہیں”

سیکھنے کے ہی تو ہم سب سے بڑے شائق ہیں، سو ان صاحب سے کہہ دیا کہ بھئی لے چلو ہمیں اپنے استاد کی خدمت میں۔ اسی لمحے انہوں نے ہمیں گروپ میں مدعو کر لیا۔ وہاں پہنچے تو پتہ چلا کہ ہمیں پہلا شاگرد ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہونے جا رہا ہے۔ کچھ دیر میں استاد محترم حاضر ہوئے اور انکشاف کیا کہ الحاد بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اگر اس کا راستہ نہ روکا گیا تو گویا پورا عالم اسلام خدا کا منکر ہوجائے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے منطق اور فلسفے کی نسبت سے اپنی عظمت بھی بیان فرمائی۔ مگر ان کی گفتگو دیکھ کر ہم فورا اس نتیجے پر پہنچ گئے تھے کہ یہ تو کوئی لونڈا ہے۔ چنانچہ یہ غیر متوقع سوال کر ڈالا

“استاد محترم ! آپ کی عمر کیا ہے ؟”

استاد محترم سوال سے پریشان ہوگئے۔ جس کا اندازہ یوں ہوا کہ جواب خاصا تاخیر سے آیا

“عمر کا اس معاملے سے کیا لینا دینا ؟”

ہم نے اصرار کیا کہ ہمیں اپنی عمر بتایئے وہ بھی بالکل درست ورنہ ہم گروپ چھوڑ جائیں گے۔ استاد محترم نے الٹا ہم سے ہی سوال کر ڈالا

“آپ کے خیال میں میری عمر کیا ہے ؟”

ہم نے بتادیا کہ آپ کی عمر 25 برس سے کم ہے۔ کتنی ہے یہ آپ نے بتانا ہے ورنہ ہم گروپ چھوڑنے لگے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے کچھ تردد کے بعد بتایا کہ وہ اکیس برس کے ہیں۔ یہ سن کر ہم نے اپنے نونہال استاد محترم کو نصیحت کرتے ہوئے عرض کیا

“فی الحال آپ دو چیزوں پر توجہ مرکوز رکھئے۔ ایک فیڈر پر جو آپ کی جسمانی نشو و نما کے لئے بہت ضروری ہے۔ دوسرا مطالعہ اور سیکھنے پر جو فکری ترقی کو ممکن بناتا ہے”

 اور یہ کہہ کر اس گروپ سے نکل آئے۔ افسوس چند سال بعد ہمارے یہ نہ بن پانے والے استاد محترم کرپٹو کرنسی میں فراڈ کے الزام کے ساتھ غائب ہوگئے۔جس سے لگایا جاسکتا ہے وہ خدا کے معاملے میں کتنے سنجیدہ تھے۔

2018ء کے آس پاس آکر ہمیں ایک اور صاحب نے وٹس ایپ پر انگیج کر لیا۔ ان کو بھی الحاد کے سدباب کی فکر ستا رہی تھی۔ ہم نے کئی بار انہیں سمجھایا مگر وہ جان ہی نہ چھوڑیں، نتیجہ کہ ایک روز وائس میسج میں بری طرح ڈانٹ کر جان چھڑانی پڑی۔

ہم اس بات کے تو قائل ہیں کہ الحاد کے پیدا کردہ سوالات کا علمی جائزہ دعوتی اسلوب میں لیا جائے۔ توحید اور وجود باری کے حوالے سے شعور کو بیدار کرنے والی مہم چلائی جائے۔ مگر اس بات کے قطعا قائل نہیں کہ الحاد یا شرک کا سد باب ممکن ہے۔ اس طرح کے احمقانہ خواب دیکھنے والے دین کے حوالے سے ہی بہت پست شعور رکھتے ہیں۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ اللہ کے بہت سے برگزیدہ پیغمبر اس دنیا سے یوں اٹھے ہیں کہ ان کی دعوت کسی ایک انسان نے بھی قبول نہیں کی ؟ وہ تنہاء آئے اور تنہاء ہی گئے۔ کیا وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کی دعوت قبول کی جائے اور شرک کو ترک کیا جائے ؟ اگر اللہ کے برگزیدہ پیغمبر ہی اس بات پر قادر نہ تھے کہ شرک کا “سدباب” کر سکیں تو کوئی پون انچی داعی ایسی کونسی صلاحتیں رکھتا ہے جو پیغمبروں سے بھی بڑھ کر ہیں ؟

پھر سب سے اہم بات یہ کہ کیا اللہ کے رسول ﷺ کو بھی اللہ سبحانہ و تعالی نے قرآن مجید میں براہ راست مخاطب کرکے یہ نہیں فرمایا کہ آپ کسی کو ہدایت نہیں دے سکتے۔ ہدایت دینا اللہ کا ہی کام ہے۔  اندازہ لگایئےاتنی بنیادی سی بات بھی نونہالانِ امت نہیں جانتے اور چلے ہیں الحاد فتح کرنے۔

ہدایت کا معاملہ سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ خدا کی اس عظیم سکیم کو سمجھا جائے جس کے تحت انسان اپنا وجود رکھتا ہے۔ انسان کا امتیاز یہ ہے کہ یہ واحد مخلوق ہے جسے کسی بھی کام کے کرنے اور نہ کرنے پر مساوی اختیار ہے۔ یہ وہ صلاحیت ہے جو کسی بھی اور مخلوق کے پاس نہیں۔ حتی کہ فرشتوں کے پاس بھی نہیں۔ اس اختیار کا مالک بنانے کے ساتھ ساتھ اللہ نے انسان کو عقل سے بھی نوازا ہے۔ چنانچہ یہ کرنے یا نہ کرنے کے فیصلے اسی کی مدد سے کرتا ہے۔ اس کے بعد اللہ نے اسے دو راستے دکھائے۔ ایک اچھائی کا راستہ اور دوسرا برائی کا راستہ۔ دونوں کے فوائد و نقصانات بھی کھول کھول کر بیان کردیئے۔ اور پھر آڈر جاری کیا برائی کے راستے سے بچنا اور اچھائی کے راستے کو اختیار کرنا۔ اب یہ آڈر ماننا ہے یا نہیں ؟ یہ اللہ نے کسی پر مسلط نہیں کیا۔ سب کو پک اینڈ چوز کا اختیار دیا ہے۔ جس سہولت سے آڈر کی تعمیل ممکن ہے۔ اسی آسانی سے نافرمانی بھی ممکن ہے۔ اور اسی پک اینڈ چوز کی بنیاد پر ہی محشر میں حساب ہوگا۔

اب دو احادیث قدسیہ ملاحظہ کیجئے۔ ایک روایت میں اللہ سبحانہ و تعالی فرماتے ہیں کہ میں اپنے بندے کے ساتھ اس کے گمان کے مطابق پیش آتا ہوں۔ یعنی اگر وہ مثبت ہے تو میں مثبت۔ اور وہ منفی ہے تو میں بھی منفی معاملہ کرتا ہوں۔ دوسری روایت میں اللہ سبحانہ وتعالی فرماتے ہیں، جب میرا بندہ میری طرف ایک قدم آتا ہے تو میں دو قدم آتا ہوں، وہ تیز تیز آتا ہے تو میں دوڑ کر آتا ہوں۔ آپ نے غور کیا پہلا قدم کون اٹھا رہا ہے ؟ بندہ اٹھا رہا ہے۔ اور جب وہ اللہ کی جانب پیش رفت کر رہا ہے تو آگے سے رسپانس دگنا مل رہا ہے۔ اسی طرح گمان والے معاملے میں بھی پہل کون کر رہا ہے ؟ ظاہر ہے انسان کر رہا ہے۔ اللہ تو رسپانڈ کر رہے ہیں۔ سو جس شخص نے طے کرلیا ہے کہ اس نے ملحد ہی رہنا ہے اسے کسی کے ابا حضور چھوڑیئے اللہ بھی ہدایت نہیں دیتے۔ کیوں ؟ کیونکہ خدا کی عظیم انسانی سکیم میں پک اینڈ چوز کا اختیار اس نے بندے پر چھوڑ رکھا ہے۔ اور اسی وجہ سے اس سے حساب کتاب ہوگا۔  یوں یہ ایک لغو بات ہے کہ کوئی شخص الحاد کا سد باب کر سکتا ہے یا پوری دنیا کے انسانوں کو مسلمان کر سکتا ہے۔

مگر الحاد والے معاملے کا اصل پہلو تو ان احمق داعیان سے بالکل ہی اوجھل ہے۔ اور وہ یہ کہ بیسویں صدی کے اختتام تک صورتحال یہ تھی مغربی ممالک جس ملک پر بھی چڑھائی کرتے، صرف فوج لے کر نہ جاتے۔ بلکہ مشنری پادریوں کی بھی پوری پلٹن ساتھ رکھتے۔ چنانچہ یہ پادری مقامی آبادی کو عیسائیت کی دعوت دیتے۔ آپ 90 کی دہائی کے ہی اخبارات اٹھا کر دیکھ لیجئے پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کو بھی اس صورتحال کا سامنا رہا۔ وہ چن کر غریب لوگوں پر محنت کرتے، انہیں وسائل رزق مہیا کرتے اور عیسائی بنا لیتے۔ چنانچہ اس زمانے کے مسلم داعی کو الحاد نہیں بلکہ مشنری پادریوں کے چیلنج کا سامنا تھا جو عیسائیت پھیلا رہے تھے۔

اکیسویں صدی کا آغاز ہوا تو مغربی حکومتوں نے پادریوں کو لگایا کھڈے لائن اور الحاد کے فروغ پر کام شروع کردیا۔ چنانچہ اب مسلم ممالک کو عیسائیت نہیں بلکہ الحاد کا چیلنج درپیش ہے۔  سو جو لوگ یہ تصور رکھتے ہیں کہ الحاد کوئی قدرتی طور پر اُگ آنے والی جڑی بوٹی ہے وہ حقیقت کا ہی ادراک نہیں رکھتے۔ حقیقت یہ ہے کہ الحاد مغرب کا سیاسی ایجندا ہے۔ اس کے پیچھے بھاری فنڈز کا خزانہ کھڑا ہے۔ عیسائیت کی دعوت تو غریب کو دی جاتی تھی سو اسے یہ مقامی سطح پر ہی رقمیں دے کر آسودہ کردیتے اور عیسائی بنا لیتے۔ لیکن جدید الحاد تو سائنسی پروجیکٹ ہے۔ اسے پڑھے لکھے ذہن سے ہی منوایا جاسکتا ہے۔ اور پڑھا لکھا ذہن محض ڈالرز پر ہی کہاں قانع ہوتا ہے۔ سو اب ڈالرز کے ساتھ ساتھ مغربی شہریت کا چارہ بھی شامل ہے۔ جب آپ کو مسئلے کی جڑ ہی نہیں معلوم تو آپ اسے حل کرسکتے ہیں ؟ آپ دالرز اور مغربی شہریت کے لالچی سے الحاد  چھوڑوا سکتے ہیں ؟

آخری گزارش یہ ہے کہ فرض کیجئے آدھا عالم اسلام ملحد ہوگیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہوگیا ؟  سکیم تو یہ خدا کی ہے۔ ہمارا رول اس میں صرف دعوت پہنچانے کا ہے بس۔ اس سے زیادہ تو پیغمبروں سے بھی خدا کو کچھ مطلوب نہ تھا۔ اور ایمان کے باب میں اللہ سبحانہ وتعالی ایک سے زائد بار کلیئر کٹ فرما چکے کہ کوئی ایمان لائے ہمیں اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ کوئی ایمان قبول نہ کرے اس کا ہمیں کوئی نقصان نہیں۔ صرف فائدے اور نقصان کی ہی بات نہیں بلکہ وہ فرماتے ہیں کہ ہمیں پروا ہی نہیں۔ نفع و نقصان جو بھی ہے انسان کا ہے۔ سو جب یہ پوری سکیم ہے اللہ سبحانہ تعالی کی، اور اسے ہی اس بات کی پروا نہیں کہ کوئی ان کی دعوت کو قبول کرتا ہے یا نہیں۔ تو پھر ہم کس خوشی میں کڑھتے رہتے ہیں ؟ ہمارے ذمہ تو اس نے صرف اور صرف دعوت لگا رکھی ہے۔ ہم اس ذمہ داری تک کیوں نہیں رہتے ؟  ہم اس ناممکن کے چکر میں ہی کیوں پڑتے ہیں جو پیغمبروں کے بھی بس میں نہ تھا ؟

Related Posts