آج خاموش رہیں گے تو کل ہمارے ساتھ ہوگا! جینیفر لارنس کا سان سیباسٹین فلم فیسٹیول میں غزہ کیلئے احتجاج

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ ہالی وڈ رپورٹر)

سان سیباسٹین فلم فیسٹیول اس سال صرف سینما کے فن کا جشن نہیں تھا بلکہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے والا ایک لمحہ بھی ثابت ہوا جب معروف اداکارہ جینیفر لارنس نے فلمی دنیا کی چکاچوند کے درمیان غزہ میں جاری انسانی بحران پر اپنے گہرے احساسات کا اظہار کیا۔

اپنی نئی فلم Die, My Love کی نمائش اور باوقار Donostia Award کی وصولی کے لیے فیسٹیول میں شریک لارنس نے اپنی گفتگو میں اس عالمی خاموشی پر سوال اٹھایا جو معصوم جانوں کے نقصان پر چھائی ہوئی ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران جب گفتگو کو صرف فلم تک محدود رکھنے کی کوشش کی گئی تو لارنس نے موثر انداز میں اس رجحان کو چیلنج کیا۔ انہوں نے واضح کیاکہ یہ صورت حال ناقابل قبول ہے اور یہ سب کچھ نسل کشی سے کم نہیں۔ انکے لہجے میں درد، خوف، اور عزم کی آمیزش تھی۔

اداکارہ نے کہا کہ وہ ماں ہونے کے ناطے سب بچوں کے لیے پریشان ہیں نہ صرف اپنے لیے۔ ان کا کہنا تھاکہ مجھے خوف ہےاور شرمندگی بھی۔ میں اپنے بچوں اور اس دنیا میں پلنے بڑھنے والے تمام بچوں کے لیے فکر مند ہوں۔

غزہ کے مظلوم بچوں سے ملاقات، ملالہ کا فلسطینی پناہ گزینوں کیلئے ایک لاکھ ڈالر عطیہ

نئی نسل کے لیے ایک پیغام

جینیفر لارنس نے خاص طور پر نوجوان ووٹرز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان بچوں کے بارے میں فکرمند ہیں جو ایسی دنیا میں بڑے ہورہے ہیں جہاں سچائی، ہمدردی اور دیانت کی قدر کم ہوتی جارہی ہے۔ ان کے مطابق اگر ہم نے اب آواز نہ اٹھائی تو آنے والی نسلیں خاموشی کو معمول سمجھ لیں گی۔

لارنس نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ ان کی باتوں کو میڈیا میں توڑ مروڑ کر پیش کیا جا سکتا ہے لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ فنکاروں کو صرف اس لیے نشانہ بنانا کہ وہ سچ بولتے ہیں ایک خطرناک روایت بن چکی ہے۔

فن اور حقیقت کا سنگم

اسی شام ان کی فلم Die, My Love کی اسکریننگ ہوئی جو زچگی کے بعد ذہنی مسائل اور رشتوں کی نازک ڈور پر مبنی ہے۔ فلم میں لارنس کے ساتھ رابرٹ پیٹنسن نے مرکزی کردار نبھایا ہے۔ یہ فلم پہلے کانز فیسٹیول میں شاندار پذیرائی حاصل کرچکی ہے اور اسے 24 ملین ڈالر میں فروخت بھی کیا جا چکا ہے۔

یہ فلم ماں بننے کے بعد کے اندرونی اتار چڑھاؤ اور ذہنی صحت جیسے نازک مگر اہم موضوعات کو پیش کرتی ہے بالکل ویسا ہی درد جو لارنس نے اپنے خطاب میں دنیا کے مجبور بچوں کے لیے محسوس کیا۔

Related Posts