یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت کی طرف سے مظاہرین کے خلاف جاری خونریز کریک ڈاؤن کی وجہ سے تہران حکومت پر نئی پابندیاں عائد کی جائیں گی کیونکہ ایران میں جاری ریاست مخالف مظاہروں پر بڑے پیمانے پرکریک ڈاؤن کے نتیجے میں ہلاکتوں میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے، جبکہ ایران کے ایک سکیورٹی اہلکار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ اب تک ہلاکتوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تعداد دو ہزار تک ہو سکتی ہے، جن میں مظاہرین کے ساتھ ساتھ سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔
ایران میں جاری مظاہرے اور امریکا کی حملے کی دھمکیوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیاں محض سیاسی بیانات نہیں بلکہ کئی سالوں سے ایران پر مسلط پابندیوں کے باعث عوامی زبوں حالی اور ساتھ ہی موساد اور سی آئی اے کی معاشرے میں سرایت کر جانے والی خفیہ سرگرمیوں کا نتیجہ ہیں جن کے سبب ملکی مسائل کو اجاگر کرکے عوام میں انتشار پھیلایا گیا۔ حالیہ مظاہروں کا آغاز ظااہراً اقتصادی مسائل ، مثلاً مہنگائی اور بے روزگاری سے ضرور ہوا، لیکن یہ بیرونی قوتوں کی مداخلت کا بھی شاخسانہ ہیں۔ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم کی واضح دھمکیاں احتجاج کی پشت پناہی کرتی ہیں۔ صدر ٹرمپ نے واضح طور پر کہا کہ ایران نے مظاہرین پر تشدد کیا تو امریکا حملے کیلئے تیار ہے، اس صورتحال میں احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیتے ہوئے سپریم لیڈر نے پہلی مرتبہ معاشی مظاہرین پر تشدد نہ کرنے کا حکم دیا جبکہ یہ 2019 کے گیسولین قیمتوں میں اضافے پر ہونے والے ہنگاموں سے یکسر مختلف احتجاج ہے ۔
تاریخ گواہ ہے کہ متعدد ادوار میں جب جب امریکی معیشت مخدوش ہوئی ،تب تب امریکہ نے کسی نہ کسی جنگ یا تنازع کا آغاز کیا تاکہ اپنی اقتصادی تنزلی کو ختم کرتے ہوئے اپنی اقتصادی صورتحال بہتر کرسکے۔ مثال کے طور پر 1898 میں اسپین کے خلاف جنگ، جو امریکی معیشت کی بحالی کا سبب بنی اور 1990 کی خلیجی جنگ کی مثال دی جاسکتی ہے جس سے تیل کی عالمی مارکیٹ امریکا کے زیر اثر آگئی۔ دوسری عالمی جنگ نے امریکہ کی معیشت کو عظیم کساد بازاری سے نکالا اور عسکری پیداوار سے روزگار اور ترقی کو فروغ ملا۔ موجودہ دور میں بھی امریکی معیشت کو چیلنجز کا سامنا ہے، اور ٹرمپ انتظامیہ نے فوجی بجٹ کو بڑھا کر 2026 میں 901 ارب ڈالر سے 2027 میں 1.5 ٹریلین ڈالر کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ، تاکہ اپنی عسکری قوت کی برتری برقرار رکھے اور چین اور روس کے بڑھتے ہوئے اثر رسوخ کو محدود کیا جائے۔ بجٹ میں یہ اضافہ تجارتی ٹیرف سے حاصل ہونے والی آمدنی سے پورا کیا جائے گا، اور اس کا مقصد امریکی ڈالر کی عالمی تجارتی بالادستی کو برقرار رکھنا ہے۔ امریکہ دنیا کا سب سے بڑا فوجی طاقتور ملک ہے، اور یہ بجٹ چین اور روس کی دفاعی صلاحیتوں کے مقابلے میں ایک جارحانہ قدم ہے، کیونکہ رپورٹس کے مطابق اگلے 4سے 8سالوں میں چین اور روس امریکی معیشت کے برابر پہنچ سکتے ہیں۔
چین دنیا کا سب سے بڑا مینوفیکچرنگ اور تجارتی ملک ہے، جو 2010 سے مینوفیکچرنگ میں اور 2013 سے تجارتی میدان میں سرفہرست ہے ، جو اپنے خطے میں مضبوطی قائم کرنے کے لیے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کو استعمال کر رہا ہے۔دوسری جانب روس نے یوکرین کے تقریباً 20 فیصد علاقے پر قبضہ کر لیا ، اور باقی بھی حاصل کر سکتا ہے اورچین اگر چاہے تو دانشمندانہ حکمت عملی کے تحت تائیوان کو ضم کر سکتا ہے۔ یوکرین بحران میں امریکی بالادستی واضح رہی، اور امریکہ ایران اور وینزویلا جیسے معاملات میں اپنی اجارہ داری کو قائم رکھنا چاہتا ہے۔
موجودہ دور میں ایران واحد ملک ہے جو امریکہ اور اسرائیل کے دباؤ کے باوجود مزاحمت کر تا رہا اور اب بھی مزاحمت کیلئے کمر کسے ہوئے ہے ۔ ایران ایسے میزائلوں کا حامل ہے ، جن کی رینج 2000 کلومیٹر ہے اور وہ 1500 کلوگرام وارہیڈ لے جا سکتے ہیں۔ اور ایران کی میزائل فیکٹریاں دن رات چل رہی ہیں، جن کی پیداواری صلاحیت کا تخمینہ تقریباً 50 میزائل ماہانہ لگایا گیا ہے۔ ایران کی یہ صلاحیت نہ صرف خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھتی ہے بلکہ امریکا اور اسرائیل جیسے ممالک کیلئے سنگین خطرات کو بھی جنم دیتی ہے۔ امریکی پالیسی میں ٹرمپ کا جارحانہ رویہ واضح ہے، جو بغیر زمینی فورسز کے حملوں پر مبنی ہے، جیسے حکومت تبدیلی کی کوششیں جبکہ امریکہ اور اسرائیل کا اتحاد مضبوط ہے لیکن ایران نے اپنی دفاعی صلاحیتوں کے بہترین اظہار سے حملوں کا مداوا کرنے کی کوشش کی ہے ۔
موجودہ عالمی منظرنامے میں ایران، امریکہ، اسرائیل، چین اور روس کے درمیان تعلقات انتہائی پیچیدہ ہیں۔ امریکہ کی جارحیت، چینی اور روسی اثرورسوخ، اور ایران کی مزاحمت کے پیش نظر خطے میں سیاسی اور اقتصادی توازن برقرار رکھنا کٹھن ہے۔
گرین لینڈ کی مثال سے واضح ہے کہ امریکہ اپنے قومی سیکیورٹی مفادات کے لیے کسی بھی اقدم سے گریز نہیں کرتا۔ پاکستان کو مستحکم، محتاط، اور اسٹریٹیجک کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ خطے میں بھونچالی صورتحال میں قومی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔ یہ صورتحال نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر اثرات مرتب کر رہی ہے، اور اسے احتیاط سے سنبھالنے کی ضرورت ہے۔ ایران کے مظاہرے اور امریکی دھمکیاں اس پیچیدہ جغرافیائی سیاست کا صرف ایک پہلو ہیں، جو بیرونی مداخلت اور داخلی چیلنجز کی عکاسی کرتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں