سیاسی جماعتیں اور غیر جمہوری روئیے

تازہ ترین

تازہ ترین

عام طور پر جب ہم جمہوریت کا نام لیتے ہیں تو اظہارِ رائے کی آزادی، ووٹنگ کے ذریعے حکمرانوں کے انتخاب اور عوام کی خدمت جیسے تصورات ذہن میں جنم لیتے ہیں، تاہم یہ سب کچھ سننے میں اچھا تو ضرور لگتا ہے، دیکھنے کو کہیں نہیں ملتا۔

دور کیوں جایا جائے؟ پاکستان کی ہی بات کیجئے تو اظہارِ رائے کی آزادی کا نام لیتے ہی ارشد شریف کا قتل یاد آئے گا، ووٹنگ کا نام لیتے ہی دھاندلی کے الزامات سامنے آئینگے اور عوام کی خدمت کا ذکر کرتے ہی ہم یہ سوچنے لگیں گے کہ ووٹ دینے کے بعد منتخب ہونے والے اراکینِ اسمبلی یا وزراء کو زمین کھا گئی یا آسمان؟

عوامی ووٹوں سے منتخب ہونے والے یہ سیاسی رہنما آپ کو ٹی وی شوز میں گفتگو کرتے یا جلسے جلوسوں میں تقریر کرتے تو ضرور دکھائی دے جائیں گے لیکن شاذ و نادر ہی کوئی عوام کی خدمت کرتا نظر آئے گا جس کی وجہ وہ سیاسی رہنما تو ضرور ہوگا لیکن اس کی سیاسی جماعت بھی اس کی پشت پناہی کرتی نظر آئے گی۔

سیاسی جماعتوں کی بات آتے ہی سب سے پہلا سوال جو ذہن میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ ان جماعتوں کو بنایا کس نے؟ کیونکہ زیادہ تر سیاسی جماعتیں آمر حکومتوں اور اسٹیبلشمنٹ کے حربوں کی پیداوار بتائی جاتی ہیں اور شاید ہی کوئی جماعت ایسی ہو جو یہ ثابت کرے کہ اس کا آمریت سے کسی دور میں کوئی تعلق نہیں رہا۔

قصور عوام کا بھی ہے جو آمروں کی بنائی ہوئی سیاسی جماعتوں سے جمہوریت کی توقع رکھتے ہیں اور یہ بھی امید لگا بیٹھتے ہیں کہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آنے والی حکومت ان کی خدمت کرے گی کیونکہ سیاست برائے خدمت کے نعرے محض نعرے ہی رہ گئے ہیں۔ عوام جس جبر کی چکی میں پس رہے ہیں، اس میں ان کا ساتھ دینا تو دور کی بات، ہمدردی کے دو بول بولنے والا بھی کوئی نہیں۔

ہمارے پیارے وطن کی مقبول ترین سیاسی جماعتوں کے محبوب ترین اور ہر دلعزیز لیڈروں کے نام ہی کسی نہ کسی سیاسی خانوادے سے منسوب نظر آتے ہیں جس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ وزیر اعظم کا بیٹا ہی وزارتِ عظمیٰ کا امیدوار اور صدرِ مملکت کی بیٹی ہی رکنِ قومی اسمبلی کے ٹکٹ کی واحد حقدار ہے اور کسی غریب کا بیٹا قوم کو اسمبلی میں قانون ساز بن کر بیٹھتا نظر نہیں آتا۔

یہی وہ غیر جمہوری روئیے ہیں جن کی وجہ سے سیاست عوامی خدمت سے کوسوں دور ہوچکی اور عوام کا ملک کے نظامِ سیاست سے اعتبار اٹھتا جارہا ہے۔ اس سے پہلے کہ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو، سیاسی جماعتوں کو اپنا قبلہ درست کرنے کی ضرورت ہے۔

Related Posts