مسلم عروج کا شارٹ کٹ

تازہ ترین

تازہ ترین

ایک بہت ہی سادہ سی بات ہے اگر ہم مسلمان اسے اجتماعی طور پر سمجھ جائیں تو اسلام کا دور عروج واپس آنے میں زیادہ وقت ہی نہ لگے۔ بالعموم جب یہ سوال اٹھتا ہے کہ مسلمان ترقی کیسے کر سکتے ہیں ؟ تو جواب یہ ہوتا ہے کہ تعلیمی ترقی کے ذریعے۔ اور یہ درست راستہ ہے مگر طویل المدتی اور رکاوٹوں سے پر ہے۔ کیونکہ خود ترقی یافتہ قومیں بھی اس بات سے واقف ہیں کہ مسلمانوں کی دوبارہ اٹھان کا ممکنہ ذریعہ یہی ہے۔ لہٰذا لارڈ میکالے کے دور سے ہی ہمارا تعلیمی نظام ان کے براہِ راست نشانے پر ہے۔

ہمارے ایٹمی پروگرام کے بعد ان کا سب سے بڑا ہدف ہمارا تعلیمی نظام ہی ہے۔ ایٹمی پروگرام تو روز اول سے محفوظ ہے مگر تعلیمی نظام 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد سے مسلسل تباہ حالی سے دو چار ہے۔ یہاں ان کی واردات کوئی پیچیدگی نہیں رکھتی۔ وہ بس اتنا چاہتے ہیں کہ ان کا تعلیمی نظام ایسی نسل تیار نہ کرے جسے اپنے دین کا بنیادی شعور میسر ہو۔ جب یہ شعور میسر نہ ہوگا تو پھر “دانشور” اور میڈیا کے ذریعے ان کے دل میں دین کی تحقیر بٹھانی آسان ہوجائے گی۔ چنانچہ یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے نوجوان دینی امور کی تضحیک تک کر ڈالتے ہیں یہ اسی کا نتیجہ ہے۔

رعایت اللہ فاروقی کے مزید کالمز پڑھیں:

حکومت جھوٹ بولنا بند کرے

موسیقی کی حلت و حرمت

اگر آپ غور کریں تو نائن الیون کے بعد ہمارے عصری تعلیم کے نصاب پر ایک بڑا حملہ یہی آیا کہ فلاں آیات اس سے نکالو اور فلاں مسلم شخصیت کی جگہ فلاں سکھ شخصیت کو اس نصاب میں شامل کرو۔ حتٰی کہ اس ضمن میں اقبال کو بھی نہ بخشا گیا۔ اسی کے ساتھ ساتھ پہلی بار دینی مدارس کے نصاب پر بھی بڑی یلغار ہوئی۔ “مدرسہ اصلاحات” کا ڈھکوسلہ اسی سلسلے کی ایک بڑی جارحیت تھی۔ اور یہ جو “مدرسہ سکور” نامی خرافات ہے یہ بھی اسی کا تسلسل ہے۔ اس ڈسکورس کا پاکستانی فرنچائزر ابھی جہاز میں بیٹھا امریکہ کی جانب حالتِ سفر میں تھا کہ ہم نے فیس بک پر ایک مفصل پوسٹ لکھ کر بتا دیا تھا کہ یہ شخص دین فروشی کے سفر پر ہے۔

سوال یہ ہے کہ نائن الیون کے بعد اہل مغرب مدارس کے پیچھے کیوں پڑگئے ؟ وجہ یہ ہے کہ وہ یہ بات بخوبی سمجھ گئے ہیں کہ دینی اور عصری تعلیم کے اداروں سے نکلنے والی دو الگ نسلوں کے مابین فاصلہ بڑھ نہیں رہا بلکہ تیزی سے گھٹ رہا ہے۔ بیسویں صدی میں تو صورتحال یہ تھی کہ اہل مدرسہ ایسے طالب عالم کا اخراج کردیا کرتے تھے جس کے بارے میں معلوم ہوجاتا کہ یہ میٹرک کا پرائیویٹ امتحان دے رہا ہے۔ جبکہ اکیسویں صدی کے پہلے ہی بیس سالوں میں صورتحال یہ ہوگئی ہے مدارس کے فضلاء کی ایک بڑی تعداد عصری تعلیم کی یونیورسٹیوں میں آ بیٹھی ہے اور کہتی ہے

“پلیز ! ہماری عصری تعلیم کے خلا کو پر کیجئے”

اب یہ اہل مغرب کے لئے ان کے نقطہ نگاہ سے بہت ہی خطرناک صورتحال ہے۔ چنانچہ اس کے تدارک کیلئے نت نئی ترکیبیں سوچی جا رہی ہیں۔ کوئی کہہ سکتا ہے کہ مدرسہ ڈسکورس بھی تو یہی کر رہا ہے۔ سو ہمارا سوال یہ ہے کہ جب دینی مدارس کے طلبہ و فضلاء خود یونیورسٹیز جانا شروع ہوگئے تو تب ہی یکایک مدرسہ ڈسکورس کی ضرورت کیوں پیش آگئی ؟ ۔ مدرسہ ڈسکورس اہل مدرسہ میں اپنے فکری غلام پیدا کرنے کی سکیم کے سوا کچھ نہیں۔

اس ہلکے سے پس منظر سے آپ کو صرف یہ جھلک دکھانی مقصود تھی کہ ترقی براستہ تعلیم ہی حقیقی روڈ میپ ہے، مگر یہ روڈ مسلسل یلغار کی زد میں ہے۔ چنانچہ اس صورتحال میں ایک راستہ اور ہے جس کے توڑ میں مغرب تب تک ناکام ہی رہے گا جب تک لبرلزم کے “تصور آزادی” میں بڑی ترمیم نہ کرلے۔ یعنی اپنا تھوکا چاٹ نہ لے۔

وہ راستہ یہ ہے کہ کسی چیز کے درست یا غلط ہونے پر مباحثے اور دلیل کی ضرورت صرف اس وقت تک رہتی ہے جب تک وہ چیز صرف ذہنی ہو، وجودی نہ ہو۔ مسلمان کو اسلام کی حقانیت کی سرتوڑ اور سر پھوڑ دلیل بازی اسی لئے کرنی پڑ رہی ہے کہ ہمارا دین اب خود اس کے عالم میں بھی فقط ذہنی ہی ہوکر رہ گیا۔ وہ ایک جمعے اس موضوع پر دلائل پیش کرتا ہے کہ اسلام امن کا مذہب ہے۔ اور اگلے جمعے وہ کسی کو واجب القتل قرار دے کر اس کے قتل کی دلیلیں پیش کرتا ہے۔ یہی عالم دینِ ذہنی سے مسئلہ یہ بتاتا ہے کہ مال وقف کی توریث حرام ہے۔ مگر خود جس وقف ادارے کو “اسلام کا قلعہ” بتاتا ہے اسی کو باپ کی جاگیر بنا کر بیٹوں کے سپرد کرکے آخرت کے سفر پر اس یقین کے ساتھ نکلتا ہے کہ حوض کوثر پر اس کے حصے کا جام اس کی راہ تک رہا ہے۔ گویا اس کے علم و عمل میں ایک بڑا تضاد پایا جاتا ہے۔ اس صورتحال میں اگر کوئی غیر مسلم یہ کہدے کہ:

“کیا تم اپنا یہ دعویٰ مجھے عملی شکل میں دکھا سکتے ہو کہ اسلام عدل و انصاف کا اعلیٰ ترین نمونہ رکھتا ہے ؟”

تو مسلمانوں کی تنگ دامنی کا یہ عالم ہے کہ انہیں پلٹ کر قرونِ  وسطیٰ اور قرونِ اولٰی کی تاریخ سے اس کے نظائر پیش کرنے پڑتے ہیں۔ ان کے پاس حال کی کوئی مثال نہیں۔ اور اسی کو کہتے ہیں کسی چیز کا محض ذہنی ہونا کہ وہ چیز اپنی درست حالت میں ذہن میں تو موجود ہو مگر خارج میں وجود نہ رکھتی ہو۔ اس بات میں کیا شک ہے کہ ہمارا دین آج بھی مفتی تقی عثمانی یا مفتی منیب الرحمان کے دماغ میں اپنی درست حالت میں موجود ہے۔ مگر یہ دین معاشرتی سطح پر وجودی نہیں ہے۔ کم پڑھے لکھے قارئین کی سہولت کے لئے ذہنی اور وجودی کا مطلب عرض کردیں کہ اسلام کا کسی کے علم میں ہونا اسلام کا ذہنی ہونا ہے۔ جبکہ اسلام کا فرد کے عمل میں شامل ہوکر مجسم ہوجانا اسلام کا وجودی ہونا کہلاتا ہے۔

چنانچہ یہ عظیم الشان راز مسلمانوں کو سمجھنا ہوگا کہ انہیں اسلام کی حقانیت کی دلیلیں صرف اس وقت تک دینی پڑیں گی جب تک اسلام ذہنی ہے۔ جس لمحے بھی یہ وجودی ہوگیا آئن سٹائن بھی اس لائق نہیں رہے گا کہ دلیل مانگ سکے۔ کیونکہ اس علمی اصول پر پوری دنیائے علم بلا تفریق نظریہ و عقیدہ متفق ہے کہ کسی وجودی چیز کو اپنے اثبات کے لئے دلیل کی کوئی ضرورت نہیں۔

ہم آپ کو اس کی ایک زندہ مثال بتاتے چلیں۔ امریکہ میں ایک لاطینی نسل کا غنڈہ اچانک مسلمان ہوگیا۔ یہ دیکھ کر اس کی ماں کا صدمے سے برا حال ہوگیا کہ پہلے تو یہ صرف غنڈہ تھا اب تو اس کی بدبختی اس درجے کو پہنچ گئی کہ یہ تو مسلمان بھی ہوگیا۔ چنانچہ وہ اسے کہتی:

“دیکھ بیٹا تو غنڈہ گردی نہیں چھوڑ سکتا تو نہ چھوڑ مگر فار گاڈ سیک یہ اسلام تو چھوڑ دے”

اس کا بیٹا اس کی پیشانی پر بوسہ دے کر گھر سے نکل جاتا۔ کوئی سال ڈیڑھ سال بعد اس کی وہی ماں مسلمان ہوگئی۔ اہل محلہ نے پوچھا:

“آپ کا تو صدمہ ہی یہ تھا کہ بیٹے کا مسلمان ہونا اس کے غنڈے ہونے سے بھی بدتر سانحہ ہے۔ اور اب آپ خود مسلمان ہوگئیں ؟ کیا یہ کھلا تضاد نہیں ؟”

اس پر ماں نے مسکرا کر جواب دیا:

“میں نے اپنے بیٹے کی شکل میں اسلام کی برکتوں کو مجسم دیکھ لیا ہے۔ جو بیٹا مجھ سے سیدھے منہ بات نہ کرتا تھا، اور بات بات پر گالیاں دیا کرتا تھا۔ وہ اب میرے پیر دھو کر پیتا ہے، اور ایک بھی انسان ایسا نہیں جسے اس سے تکلیف پہنچ رہی ہو۔ سو اب مجھے اسلام کے حق مذہب ہونے کے لئے کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔ میں نے اسلام کا حق ہونا اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے۔”

ذرا غور کیجئے اگر کوئی ہم جیسا ہوتا اور وہ اس خاتون کو اسلام کی جانب لانا چاہتا تو بحث اور دلیل کی راہ اختیار کرتا کہ نہیں ؟ جو اسلام ہم اسے صرف علمی دلیل کی مدد سے پیش کر سکتے تھے اسے اس نے بیٹے کے عمل میں مجسم دیکھ لیا تو کسی دلیل کی ہی حاجت نہ رہی۔ہم میں اور اس کے بیٹے میں فرق کیا ہے ؟ یہی کہ ہمارا اسلام ذہنی ہے، جبکہ اس خاتون کے بیٹے کا اسلام وجودی !

Related Posts