پنجاب سے وفاق تک جنگ

تازہ ترین

تازہ ترین

پاکستان سمیت دنیا بھر میں بظاہر امن و استحکام نظر آتا ہے تاہم اقتدار کے حصول یا کسی خاص مقصد کی تکمیل کیلئے رسہ کشی جنگ کی صورت اختیار کر لیتی ہے، کچھ ایسی ہی صورتحال گزشتہ روز کے ضمنی انتخابات کے دوران بھی درپیش رہی۔

پولنگ اسٹیشن سے لے کر اقتدار کے ایوانوں تک اور سیاسی جغادریوں کے گھروں سے لے کر غریب کی چوکھٹ تک ہر شخص کے ذہن میں ایک ہی سوال تھا کہ پنجاب کے 20 حلقوں میں ضمنی انتخابات کے دوران حمزہ شہباز ہی وزیر اعلیٰ رہیں گے یا پرویز الٰہی کی وزارتِ اعلیٰ کیلئے راہ ہموار ہوگی؟

وزیر اعظم شہباز شریف نے باضابطہ طور پر ٹوئٹر پیغام ارسال کرکے عوام کو ووٹ دیتے ہوئے سابق وزیر اعظم عمران خان کے پونے چار سالہ دورِ حکومت کی کارکردگی ذہن میں رکھنے کا مشورہ دیا جو ان کے خیال میں کرپشن، نااہلی اور بیڈ گورننس سے بھرپور رہی۔

اپنے ٹوئٹر پیغام میں وزیر اعظم نے الزام عائد کیا کہ عمران خان حکومت معاشی تباہی، مافیا کی سہولت کاری، شہریوں کو مفت ادویات سے محروم کرنے اور سرکاری آسامیوں کی کھلے عام خریدوفروخت میں ملوث رہی جبکہ اس دوران لاقانونیت عروج پر تھی۔

یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ عین 17 جولائی کو ضمنی انتخابات کے روز وزیر اعظم کا عوام کو عمران خان کے خلاف ووٹ دینے کا مشورہ الیکشن کمیشن کے ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی تھی یا نہیں؟ کیونکہ انتخابی مہم کا وقت تو 15 جولائی کی شب کو ہی ختم ہوگیا تھا۔

رواں برس ملک کی سیاسی تاریخ میں پہلی بار بہت کچھ نیا ہوا ہے۔ مثلاً عمران خان کو 5سال پورے نہ کرنے دینا تو چلئے پرانی بات تھی، لیکن انہیں باضابطہ جمہوری طریقے سے تحریکِ عدم اعتماد کامیاب کرا کر وزارتِ عظمیٰ چھورنے پر مجبور کیا گیا۔

اسی طرح ملک کی تاریخ میں پہلی بار ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ دے کر تحریکِ عدم اعتماد مسترد کی اور پھر ملک کی تاریخ میں پہلی بار ہی سپریم کورٹ نے رولنگ مسترد کرتے ہوئے اسمبلی بحال کردی جس کے بعد تحریکِ عدم اعتماد کامیاب کرالی گئی۔

ایک بار پھر، ملک کی تاریخ میں پہلی بار ملک کا وزیر اعظم شہباز شریف کو بنایا گیا جن کے وزیر اعظم بننے کے دور دور تک کوئی امکانات نہیں تھے اور پھر ملک کی تاریخ نے وہ منظر بھی دیکھا کہ باپ وزیر اعظم تو بیٹا وزیر اعلیٰ پنجاب بن گیا۔

حمزہ شہباز ملک کی تاریخ کے وہ پہلے وزیر اعلیٰ پنجاب ہوں گے جنہیں حلف برداری کی تقریب کیلئے ریکارڈ مدت تک انتظار کرنا پڑا اور جب وزارتِ عظمیٰ ملی بھی تو کابینہ اراکین اور گورنر پنجاب کی نشست کیلئے بھی اقتدار کی رسہ کشی مثالی رہی۔

اگر پنجاب کے ضمنی انتخاب میں پی ٹی آئی کا پلڑا بھاری رہا تو نئے وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی بھی بن سکتے ہیں جو موجودہ سیاسی صورتحال کیلئے نیا دھچکا کہا جاسکتا ہے۔ غور کیا جائے تو صرف ایک وزیر اعلیٰ کی نشست کیلئے پنجاب سے وفاق تک گھمسان کی جنگ لڑی گئی جو تاحال جاری و ساری ہے۔

Related Posts