مسلم حکمران کیا کر رہے ہیں؟ مسلم حکمرانوں کی غیرت مر گئی کیا؟ یہ 54 مسلم ممالک کس کام کے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو دوسری جنگ عظیم کے بعد سے کسی بھی آتشیں بحران کے دوران مسلم رائے عامہ نے ایک تواتر کے ساتھ اٹھائے ہیں۔
معاملہ صرف ان سوالات تک ہی نہیں رہا۔ بلکہ اس میں ایک اضافہ انٹرنیٹ دور میں یوں بھی کیا گیا کہ باقاعدہ حکم لگانے شروع کردئیے گئے۔ مثلاً یہ کہ مسلم حکمران غدار ہیں، مسلم حکمران مغرب کے آلہ کار ہیں اور مسلم حکمران عیاش ہیں۔
یہ سوالات اور لگائے گئے حکم اپنے پورے تسلسل کے ساتھ آج بھی گردش میں ہیں۔ اور اس حد تک ہیں کہ ان کی زبانوں پر بھی ہیں جو خود کو مسلم معاشروں میں خرد بانٹنے پر مامور من اللہ سمجھتے ہیں۔ مسلم رائے عامہ کے نزدیک پچھلی ایک صدی کے دوران مسلم حکمران اس حد تک اجتماعی غدار ہیں کہ 54 میں سے ہر دور میں بس ایک دو ہی غدار نہیں رہے باقی سب ہی غدار تھے اور ہیں۔ اس رائے عامہ نے مختلف ادوار میں جن چند کو غداری کے فتوے سے استثناء دیا۔ ان میں جمال عبدالناصر، شاہ فیصل، صدام حسین، جنرل ضیاء الحق، امام خمینی اور رجب طیب اردگان شامل ہیں۔ اگر آپ غور کریں گے تو یہ سب مختلف ادوار کے ہیں۔ ان میں سے بیک وقت دو بہت کم موجود رہے ہیں۔
ایک بہت ہی قابل غور پہلو یہ ہے کہ مسلم رائے عامہ صرف اس حکمران سے ہی مطمئن ہوتی ہے جو “پنگے باز” ہو۔ ان کے نزدیک پنگے لے کر اپنے ملک کو برباد کروانا “قومی غیرت” ہوتی ہے۔ ان کے پسند فرمودہ حکمرانوں میں ایسا کوئی بھی حکمران نہیں پایا جاتا جس نے اپنے ملک میں عوام کی خوشحالی کے لئے کسی بڑے وژن پر کام کیا ہو۔ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں تو ہم کسی شمار قطار میں نہیں۔ لیکن مسلم رائے عامہ کو ہمارے حکمرانوں کی اس غفلت سے کوئی شکایت نہیں۔ حکمران تعلیمی ترقی والی غیرت نہ رکھتا ہو تو خیر ہے۔ اسے بس اپنا پاکستان، افغانستان، عراق، شام اور لیبیا تباہ کروانے کا جذبہ ہونا چاہئے۔
چلئے کچھ دیر کے لئے مان لیا کہ پنگے سے گریز کرنے والے حکمران غدار ہیں۔ ہمیں بس ایک سادہ سے سوال کا جواب دیدیجئے۔ اور وہ یہ کہ مسلم حکمرانوں نے غداری کا فیصلہ کس تاریخ اور اجتماع میں کیا؟ اگر مسلم حکمران واقعی غدار ہیں تو کیا اجتماعی غداری کا فیصلہ انہوں نے اکتوبر 1973ء کے بعد کیا؟ کیونکہ اس تاریخ تک تو 25 سالوں میں مسلم حکمران فلسطین کی آزادی کے لئے تین جنگیں لڑ چکے ہیں۔ اور ان جنگوں کا فیصلہ اس حد تک اجتماعی تھا کہ دو جنگوں میں تو پاک فضائیہ بھی شریک ہوئی۔
جانِ عزیز ! مسلم امہ کا سب سے بڑا بحران یہ ہے کہ یہ اپنے دور زوال میں ہے، سو کمزور ہے۔ اس کمزور ترین دور میں جب فلسطین کی آزادی کے لئے لڑی گئی تینوں جنگیں شکست پر منتج ہوئیں تو یہ طے تھا کہ اب ردعمل ہوگا۔ اور وہ ردعمل اس صورت میں آیا کہ عالمی اسٹیبلیشمنٹ نے بعض مسلم حکومتوں کے تختے الٹے ، بعض ممالک کے حکمران قتل کروائے، کچھ پر پابندیاں لگائی گئیں اور بعض ممالک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔ اب یہ آپ کو لگتا ہے کہ مغرب صدام حسین کے اس لئے خلاف ہوا کہ اس نے کویت پر حملہ کردیا تھا۔ کویت پر حملہ تو اس سے کروایا گیا تھا تاکہ اسے جواز بنا کر عرب یکجہتی کو بھی توڑا جائے اور عراق کی اینٹ سے اینٹ بھی بجا دی جائے۔ کیونکہ صدام نے جو ہتھیار جمع کر رکھے تھے وہ اسرائیل تک رسائی رکھتے تھے۔ اسی طرح کی صورتحال باقی کیسز میں بھی ہے۔ مسلم ممالک میں رونما ہونے والے تمام مسائل اسرائیل سے جڑے ہوئے ہیں۔ مغرب تین عرب اسرائیل جنگوں سے یہ نتیجہ اخذ کرچکا ہے کہ مسلم ممالک کا قوت حاصل کرنا اسرائیل کے لئے تباہ کن ہوگا۔ سو اس کے سدباب کے لئے اس نے 1973ء کے بعد سے مسلم دنیا کو مستقل طور پر داخلی بحرانوں سے دوچار رکھا ہے۔
مسلم حکمرانوں نے1973ء کے بعد کی صورتحال میں بھی کچھ نتائج اخذ کئے ہیں۔ مثلاً ایک اہم نتیجہ یہ اخذ کیا گیا ہے کہ ہم نے مغرب کو یہ مواقع بہت دیئے کہ وہ ہر وقت کسی نہ کسی مسلم ملک کو برباد کرتا رہے۔ اور اس کے نتیجے میں مسلمان نہ تو ترقی کا کوئی سفر شروع کرسکیں اور نہ ہی فلسطین اور کشمیر جیسے مسائل کے حل کے لئے کوئی سنجیدہ پیش رفت کرسکیں۔ ذرا غور کیجئے، پچھلے چالیس پچاس سال کی تاریخ میں مسلم دنیا کی توجہ افغان جنگوں، ایران عراق جنگ، دو خلیجی جنگیں، عرب سپرنگ اور اس کے نتیجے میں شام اور لیبیا کی تباہی پر رہی ہے۔ ہم ہر وقت کوئی داخلی زخم ہی چاٹ رہے ہوتے ہیں اور وہ بھی اس حال میں کہ دہشت گرد کا لیبل بھی ہمارے ہی ماتھے پر چپکا نظر آتا ہے۔ اس پوری صورتحال میں ان عسکری تنظیموں نے مغرب کے آلہ کار کا کردار ادا کیا ہے جو سنی ممالک میں 80 کی دہائی میں یا اس کے بعد وجود میں آئیں۔
مسلم رائے عامہ کی کوتاہ نظری کا تو یہ حال ہے کہ اخبار میں چھپی خبر بھی اس کی آنکھ سے اوجھل رہتی ہے۔ مثلاً امریکہ کی قومی سلامتی کے موجودہ مشیر جیک سالوان 2011 میں کہہ چکے “القاعدہ اب ہمارے ساتھ ہے”۔ ہمارے نزدیک اس جملے میں “اب” اضافی ہے۔ یہ القاعدہ آج بھی شام اور افریقہ میں امریکی مفادات کے لئے متحرک ہے اور یہ وہی القاعدہ ہے جس نے افغانستان اور عراق کی تباہی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ صرف القاعدہ پر ہی کیا منحصر، یہی صورتحال داعش کی بھی رہی۔ عالمی میڈیا پر بار بار کہا گیا کہ یہ تنظیم امریکہ کی تخلیق ہے۔ اور اس حد تک کہا گیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے 2016ء کی انتخابی مہم کے دوران صاف کہا۔ “داعش باراک اوباما کی تخلیق ہے۔ میں اقتدار میں آکر اسے ختم کروں گا” اور اس نے داعش کا جنازہ نکالا بھی۔ ابھی گزشتہ روز ایک امریکی عسکری تجزیہ کار سکاٹ رٹر نے کہا “داعش کو ختم کرنے کے لئے ڈونلڈ ٹرمپ کو زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی۔ اس نے بس وہ فنڈز روک دیئے جو امریکہ سے داعش کو مل رہے تھے اور اس کے سربراہ کو مار دیا”۔
سو اس پورے پس منظر میں مسلم حکمرانوں نے یہ طے کر رکھا ہے کہ اب مغرب کو یہ مواقع نہیں دیئے جائیں گے کہ وہ ہر وقت کسی نہ کسی مسلم ملک کو برباد کر رہا ہو۔ کیونکہ ایک تو دس دس اور بیس بیس سال تک پوری مسلم دنیا کی توجہ اس ملک کی طرف چلی جاتی ہے اور پھر ابھی یہ ملک اپنے قدموں پر کھڑا ہوا ہی نہیں ہوتا کہ کسی اور ملک کی باری آجاتی ہے۔ چنانچہ 7 اکتوبر کے واقعے کے بعد سے اگر ہم بغور دیکھیں تو مسلم حکمرانوں نے انتہائی تدبر کے ساتھ قدم بڑھائے ہیں۔ پورے کا پورا مسلم بلاک فلسطین کے ساتھ کھڑا ہے مگر فٹ پرنٹ کہیں نظر نہیں آتے۔ یہ بات ہم پہلے بھی کئی بار لکھ چکے کہ عسکریت وہ پروجیکٹ ہے جو کسی ملک کی پشت پناہی کے بغیر چلانے کا تصور ہی باطل ہے۔
فلسطینی آر پی جی7 لانچر سے فائر کیا جانے والا یسین کا جو راکٹ بناتے رہے ہیں وہ انہیں 500 ڈالر کا پڑ رہا ہے۔ یہ راکٹ تھوک کے حساب سے استعمال ہو رہے ہیں۔ ذرا صرف یسین والے پانچ سو ڈالر ہی کیلکولیٹ کر لیجئے، اندازہ ہوجائے گا کہ یہ عوامی چندہ ہے یا ریاستی مدد؟ فلسطین کی جنگ صرف غزہ میں نہیں لڑی جا رہی۔ اس کا صرف عسکری محاذ غزہ میں ہے۔ اس کے سفارتی محاذ اہم دارالحکومتوں میں، قانونی محاذ اقوام متحدہ اور عالمی عدالت انصاف میں اور تحریکی محاذ تو اب امریکی تعلیمی اداروں میں بھی قائم ہوگیا ہے جہاں امریکہ کو دفاعی پوزیشن پر لڑنا پڑ رہا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار مسلمان اس طرح لڑ رہے ہیں کہ وہ پر اعتماد بھی ہیں اور مطمئن بھی۔ جبکہ پریشانیوں کی خیمہ بستیاں تل ابیب سے واشنگٹن تک پھیلی نظر آرہی ہیں۔ پہلی بار ایسا ہو رہا ہے کہ مسلم عسکری تنظیمیں لڑ رہی ہیں اور دنیا کے ہر مذہب کے کروڑوں لوگ انہیں سپورٹ کر رہے ہیں۔ مغربی ممالک کی حکومتیں اس بار بھی انہیں ”مسلم دہشت گرد ‘ بتا رہی ہیں مگر ان کی اپنی رائے عامہ ہی اس لیبل کو قبول کرنے سے انکاری ہے۔
ہوش اس حد تک اڑے ہوئے ہیں کہ پچھلے دو ہفتوں سے امریکی نیوز چینلز پر امریکی سیاستدان یہ کہنا شروع ہوگئے ہیں کہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ امریکہ میں چلنے والی اسرائیل مخالف تحریک کے پیچھے کوئی نہ ہو۔ ہمیں خفیہ ہاتھ ڈھونڈنے ہوں گے۔ آپ اس کی معنویت سمجھتے ہیں؟ یہ جملے تو پچھلے پچھتر سال سے ہم مسلمانوں کے سکہ رائج الوقت تھے۔ پہلی بار امریکہ کو بھی اپنے ہاں کسی خفیہ ہاتھ کی تلاش ہے۔ اگر آپ مسلم حکمرانوں کی سرگرمیاں نوٹ کرنے کی کوشش کریں تو آپ کو کوئی بھاگم دوڑ اور یہ کانفرنس، وہ کانفرنس والے سین نہیں ملیں گے۔ لیکن عین موزوں وقت پر کسی افراتفری کے بغیر کوئی ایسی پیش رفت ہوجاتی ہے جو اسرائیل کے لئے بڑی سطح کی نئی پریشانیاں پیدا کر دیتی ہے۔
مثلاً جب عالمی عدالتِ انصاف میں فلسطین کا کیس گیا تو ساؤتھ افریقہ مدعی بنا۔ ایک لمحے کو سوچئے کہ اگر یہ مدعی سعودی عرب یا ایران ہوتا تو؟ ساؤتھ افریقہ کے مدعی بننے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ اس سے یہ پیغام گیا کہ فلسطین کا قضیہ اب محض مسلمانوں کا داخلی قضیہ نہیں رہا۔ اب یہ “انسانیت” کا مشترکہ مسئلہ ہے جس میں رنگ، نسل اور مذہب سے بالاتر ہوکر کردار ادا کرنا ہوگا۔ اور جب کیس تھوڑا سا آگے بڑھا تو پہلے سعودی عرب اور پھر عرب لیگ بھی خاموشی سے اس میں فریق بن گئی۔ اسی دوران ایران کو گھیرنے والی اسرائیلی سکیم ناکام ہوئی تو ابھی اسرائیل اسی ہزیمت کے صدمے سے فارغ نہ ہو پایا تھا کہ ترکی نے تجارتی کارڈ چل دیا۔ اور ترکی کا یہ کارڈ بے پناہ اہمیت کا حامل ہے۔ کیونکہ ترکی ہی وہ ملک ہے جس سے اسرائیل تیل خریدتا ہے۔ ترکی نے جیک چل کر اپنے یکے کی طرف اشارہ دیا ہے۔ ابھی ترکی والے اقدام کی بازگشت موجود تھی کہ مصر نے عالمی عدالتِ انصاف کا رخ کرلیا۔ مصر کی اس پیش رفت کی اہمیت یہ ہے کہ امریکہ نے 1973ء والی جنگ کے بعد سے اسے اسرائیل سے یوں جوڑ رکھا ہے کہ جتنی سالانہ مالیاتی امریکی امداد اسرائیل کو ملتی ہے اتنی ہی مصر کو بھی ملتی ہے۔سو امریکی زاویے سے دیکھا جائے تو مصر کا عالمی عدالتِ انصاف جانا خود امریکیوں کے لئے ناقابل یقین اقدام کا درجہ رکھتا ہے۔
ایک اور اہم چیز یہ کہ دو بار امریکی حکومت نے یہ دعویٰ کیا کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے مابین ابراہیمی ایکارڈ والا معاہدہ بس ہونے کو ہے اور دونوں ہی بار سعودی عرب نے اس کی فوری تردید کردی۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سعودی عرب نے پس پردہ ہونے والی بات چیت میں امریکیوں کو ٹرک کی بتی کے پیچھے اس کامیابی سے لگا رکھا ہے کہ وہ پر یقین ہوکر اعلان کردیتے ہیں کہ سعودی عرب اور اسرائیل کی دوستی ہونے والی ہے مگر سعودی اس اعلان کو ٹکنے نہیں دیتے۔ نتیجہ کیا ہے؟ نتیجہ یہ ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کے ہاتھ کچھ بھی نہیں آرہا اور وقت ہے کہ جوبائیڈن کے لئے نازک سے نازک تر ہوتا جا رہا ہے۔ اس پوری صورتحال میں فلسطین کاز یا مسلم دنیا کو ایک بھی نقصان نہیں ہوا۔ ہم دن بدن کوئی نئی کامیابی حاصل کرتے نظر آتے ہیں جبکہ اسرائیل اور امریکہ مسلسل سیاسی و اخلاقی خسارے کا سامنا کر رہے ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ تاریخ کے اس اہم موڑ پر کوئی “غیرت مند حکمران” موجود نہیں۔ ورنہ جنگ کب کی غزہ سے اس کے ملک منتقل ہوچکی ہوتی، اور فلسطین کاز اس کی دھول میں ایک بار پھر گم ہوچکا ہوتا !
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں