بین الاقوامی سطح پر ایک جانب ایرانی وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان کو اہمیت دی جارہی ہے تو دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ پر ایک ڈنر کے دوران ہونے والی فائرنگ زیر بحث ہے ، حوصلہ افزا امر یہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے واضح کردیا کہ فائرنگ کا ایران جنگ سے کوئی تعلق نہیں جبکہ حملہ آور کی شناخت ہوچکی ہے جو امریکا کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔
پاکستانی قیادت، بالخصوص وزیراعظم شہباز شریف نے صدر ٹرمپ پر فائرنگ کے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر اظہارِ اطمینان بھی کیا کہ صدر ٹرمپ اور خاتون اوّل محفوظ رہے، بصورتِ دیگر یہ واقعہ عالمی سطح پر کسی بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا تھا جس کیلئے دنیا تیار نہیں۔
دوسری جانب عالمی مالیاتی حلقوں میں یہ امر بھی زیرِ بحث ہے کہ امریکا نے ایران پر دباؤ میں مزید اضافہ کرتے ہوئے تقریباً 344 ملین ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی اثاثوں کو منجمد کردیا ، امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق یہ اقدام ایران کی توانائی سے حاصل شدہ آمدن اور اس کے مالیاتی نیٹ ورک کو محدود کرنے کیلئے اٹھایا گیا، تاکہ جنگی حالات میں تیل اور مالی وسائل کی ترسیل کو روکا جاسکے اور ایران کو مالی طور پر مفلوج کیاجاسکے، حالانکہ آبنائے ہرمز کی بندش کے سبب عالمی منڈی پہلے ہی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے اور توانائی سپلائی چین شدید دباؤ کا شکار ہے۔
مزید برآں مشرقِ وسطیٰ میں طوالت پکڑتی ہوئی کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی سخت بیانات سامنے آئے ہیں، یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے واضح کیا ہے کہ یہ آبنائے ہرمز فوری طور پر “بغیر کسی پابندی اور بغیر ٹولنگ” کے کھولی جانی چاہیے، کیونکہ اس کی بندش نہ صرف عالمی تجارت بلکہ توانائی کی ترسیل کیلئے بھی شدید خطرات پیدا کر سکتی ہے، اور اگر یہ صورتحال طول پکڑتی ہے تو عالمی معیشت ایک نئے بحران کی طرف جا سکتی ہے۔
اسی طرح جنگی سفارت کاری کے میدان میں بھی سرگرمیاں غیر معمولی حد تک بڑھ گئی ہیں، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اپنے مختصر وفد کے ساتھ اسلام آباد پہنچے جہاں ملکی قیادت سے اہم ملاقاتیں ہوئیں ، یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطے میں بیک چینل سفارت کاری تیزی سے جاری ہے اور پاکستان کے حوالے سے سفارتی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے عالمی میڈیا کا کہنا ہے کہ اگرچہ امید کی ایک ہلکی سی کرن موجود ہے، لیکن صورتحال اب بھی وقتی جمود کے مرحلے میں ہے کیونکہ ایران اور امریکا کے درمیان اعتماد کا فقدان گہرا ہے۔ اسی دوران یہ رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں کہ پاکستان ان کوششوں کو “احتیاط کے ساتھ پرامید” انداز میں دیکھ رہا ہے، اور سمجھتا ہے کہ اگر علاقائی طاقتیں اپنا کردار ادا کرتی رہیں تو عنقریب بامعنی مذاکرات کی راہ نکل آئے گی۔
یہاں سوال یہ بھی ہوسکتا ہے کہ عباس عراقچی کو پاکستان کے دورے کی کیا ضرورت پڑ گئی؟جبکہ انہیں امریکا سے براہِ راست مذاکرات کرنے ہی نہیں تھے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بعض اوقات بہت سخت بیانات سامنے آتے ہیں اور وہ سفارت کاری کے تقاضوں کو ملحوظِ خاطر نہیں رکھتے، جس کی وجہ سے پاکستان کو یہ فریضہ انجام دینا پڑتا ہے کہ وہ ان سخت بیانات کو ایران کے سامنے سیاق و سباق کے ساتھ پیش کرے، تاکہ دونوں ممالک کے مابین مسائل کا حل نکلنے کی راہ ہموار ہو اور دنیا کو اس معاشی اذیت سے نکالنے کا کوئی راستہ نظر آئے جو ایران جنگ کے باعث عالمی برادری پر مسلط ہوچکی ہے۔
پاکستان کیلئے فخر کی بات یہ ہے کہ امریکا ایران جنگ میں ثالثی کے کردار سے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو ایک نئی جہت ملی اور روایتی و عسکری ڈپلومیسی ایک نئے اسٹیج پر نظرآئی، خاص طور پر چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر جو ماضی میں ملٹری انٹیلی جنس اور آئی ایس آئی دونوں کی سربراہی کرچکے ہیں، ان کے مراسم نے اس سفارت کاری کو نئی بلندیوں تک لے جانے میں جو کردار ادا کیا ہے، اسے فراموش نہیں کیاجاسکتا اور امید یہ کی جاسکتی ہے کہ پاکستان اتنی ہی تندہی کے ساتھ آگے جا کر اپنی معیشت کو بھی بہتری کی جانب لے جائے گا تاکہ ملک میں موجود غربت اور افلاس میں کمی آسکے اور لوگ سکھ کا سانس لے سکیں۔
اسی سفارتی سرگرمی کے دوران خطے میں سکیورٹی خدشات بھی بڑھ گئے ہیں، جہاں ایک جانب امریکا نے روسی تیل کی ترسیل سے متعلق رعایتی اجازت نامے ختم کرنے کا اعلان کیا ہے، وہیں ایرانی تیل کی ترسیل پر کسی بھی قسم کی نرمی کو “ناممکن” قرار دیا گیا ۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکا نے چین میں قائم ایک بڑی ریفائنری اور تقریباً 40 شپنگ کمپنیوں اور ٹینکرز پر بھی پابندیاں عائد کردیں جن پر ایرانی تیل کی ترسیل میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا۔ مزید یہ کہ امریکی فوجی موجودگی میں اضافہ کرتے ہوئے خطے میں تین ایئرکرافٹ کیریئرز تعینات کیے گئے ہیں، جو 2003 کی عراق جنگ کے بعد پہلی بار اس نوعیت کا بڑا عسکری اقدام سمجھا جارہا ہے۔
خطے میں صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہوگئی جب کویت کے شمالی سرحدی علاقوں میں دو ڈرون حملے رپورٹ ہوئے جنہیں عراق کی جانب سے داغا گیا تھا، ان حملوں میں اگرچہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا لیکن بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا، اور عراقی حکومت نے فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔
اسی دوران اسرائیلی محاذ پر بھی کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے حزب اللہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ لبنان کے ساتھ کسی بھی ممکنہ “تاریخی امن معاہدے” کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کررہی ہے، جس سے خطے میں امن کے امکانات مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔
غزہ میں انسانی بحران بدستور سنگین ہے، جہاں حالیہ اسرائیلی حملوں میں کم از کم بارہ فلسطینی شہید ہوگئے ہیں جن میں چھ پولیس اہلکار بھی شامل ہیں، طبی ذرائع کے مطابق علاقے میں بنیادی سہولیات کی کمی اور مسلسل بمباری نے صورتحال کو انتہائی نازک بنا دیا ، اور عالمی برادری کی تشویش کے باوجود زمینی حالات میں کوئی بہتری نظر نہیں آرہی۔
تازہ ترین پیشرفت یہ ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عمان کے دورے کے بعد روس جائیں گے۔اس سے قبل غالب امکان یہی تھا کہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر پاکستان پہنچیں گے، تو اس وقت ایرانی وفد کا بھی پاکستان پہنچے گا، لیکن ظاہراً معلوم ہوتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ٹیم کو ناگوار گزرا، کہ ان کی ٹیم اتوار کی صبح پہنچ گئی اور دو دن کاانتظار ٹرمپ اور ان کی ٹیم کو ناگوار گزرا ، کیونکہ امریکا دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہونے کے باعث یہ گھمنڈ بھی رکھتا ہے کہ ایران جیسے ملک کے وفد کا دو روز تک انتظار کیوں کیا جائے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ جواز دیتے ہوئے اپنی ٹیم کی روانگی منسوخ کردی۔
اس طرح بظاہر ایران نے یہ موقع گنوا دیا کہ پاکستان کی ثالثی میں امریکی وفد سے مذاکرات ہوتے، تاہم اگر پاکستان کے مشورے کے مطابق ایرانی وفد رک جاتا اور پاکستان کی کاوشوں سےایران امریکا وفود کی ملاقات ہوجاتی توکافی راہیں ہموار ہوسکتی تھیں۔بہرحال، بیک چینل ڈپلومیسی جاری و ساری ہے اور توقع کی جاسکتی ہے کہ آنے والے دنوں میں ایران امریکا ملاقات ضرور ہوگی اور خاص طور پر جب دنیا معاشی کرب اور تکلیف میں مبتلا ہے ، یہ ملاقات انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اگر یہ تنازعہ جاری رہا تو وقت کے ساتھ ساتھ یہ درد اور کرب بڑھتا چلا جائے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں