ٹرمپ کا دجالی منصوبہ

تازہ ترین

تازہ ترین

Who Was the Lone Warrior Who Stood Against the Tank?

غزہ کے خون آلود افق پر ایک نیا منظرنامہ تراشا جا رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جس امن منصوبے کا اعلان کیا ہے اس کی حقیقت اسرائیلی میڈیا پر جاری ہونے والے نقشوں نے بے نقاب کر دی ہے۔ اس منصوبے کے مطابق غزہ کی پٹی کو تین مرحلوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں اسرائیلی فوج پورے علاقے پر مکمل کنٹرول قائم کرے گی اور قیدیوں کی رہائی عمل میں آئے گی۔ یہ وہ حصہ ہے جو نقشے پر نیلی لکیر سے باہر دکھایا گیا ہے۔ دوسرے مرحلے میں ایک بین الاقوامی قوت متعین ہوگی جس کا مقصد غزہ کو غیر عسکری بنانا ہوگا۔ اس دوران اسرائیلی فوج پیلی لکیر تک پیچھے ہٹ جائے گی۔ تیسرے مرحلے میں اسرائیلی افواج سرخ لکیر تک محدود ہو جائیں گی، لیکن اس کے باوجود ایک بفر زون میں اسرائیلی موجودگی برقرار رہے گی۔ گویا قبضہ ختم ہونے کے بجائے ایک نئے عنوان کے ساتھ جاری رہے گا اور غزہ بدستور کھلی چھت کے جیل خانے کی شکل میں باقی رہے گا۔

اس منصوبے پر سعودی عرب، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، پاکستان، ترکی، قطر اور مصر کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا۔ حیرت انگیز طور پر اس بیان میں امریکی صدر کی مخلصانہ کوششوں کا خیر مقدم کیا گیا اور امریکہ کے ساتھ شراکت داری پر زور دیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی مسلم دنیا میں ایک بھی ایسا صاحب کردار حکمران نہیں بچا جو ان فریب کاریوں پر صدائے احتجاج بلند کرسکے؟

ٹرمپ کی گفتگو نے منصوبے کی روح کھول کر رکھ دی۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ کی تباہی کے ذمہ دار خود مزاحمت کار ہیں۔ اسرائیل نے تو امن کے لیے غزہ خالی کیا مگر وہاں کے لوگوں نے تعلیم و صحت کے بجائے دہشتگردی اور سرنگوں پر سرمایہ لگایا۔ اسپتالوں اور اسکولوں کے نیچے سرنگیں بنا کر اسرائیل کو ہدف بنایا اور جب اسرائیل انہیں نشانہ بناتا ہے تو عمارتیں تباہ ہو جاتی ہیں۔ یہ وہ بیانیہ ہے جسے امریکی صدر براہِ راست دنیا کے سامنے دہرا رہے ہیں اور اسرائیل کے ہولناک جرائم کو جواز فراہم کر رہے ہیں۔

لیکن تاریخ اس کے بالکل برعکس ہے۔ اسرائیل نے غزہ کو امن کے نام پر نہیں چھوڑا بلکہ مزاحمت کاروں کے ہاتھوں شدید نقصان اٹھانے کے بعد پسپائی اختیار کی۔ اسرائیلی پارلیمان نے 2004 میں Disengagement Plan Implementation Law منظور کیا اور پھر 2005 میں اپنی 21 بستیوں اور فوجی چوکیوں کو مسمار کرکے فوج واپس بلا لی۔ یہ انخلا امن کی کوشش نہیں بلکہ عسکری شکست کا اعتراف تھا۔ اس کے بعد 2006 میں فلسطین کے پہلے عام انتخابات ہوئے جن میں مزاحمتی جماعت بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئی اور اسماعیل ہنیہ وزیراعظم بنے مگر اسرائیل، امریکہ اور یورپ نے ان کی حکومت تسلیم نہ کی۔ یوں غزہ کی ناکہ بندی کی گئی اور پوری پٹی کو کھلی چھت کا جیل خانہ بنا دیا گیا۔ اس کے باوجود دنیا بھر کے میڈیا کو گواہ بنا کر اس ڈھٹائی سے جھوٹ بولتے ہوئے ٹرمپ کو ذرہ برابر بھی شرم نہیں آتی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: إذا لم تستح فاصنع ما شئت جب آدمی بے شرم ہو جائے تو جو چاہے کرتا پھرے۔” (صحیح بخاری، حدیث: 3483)

ٹرمپ کے اکیس نکاتی منصوبے کے مطابق 72 گھنٹوں میں تمام یرغمالیوں کی رہائی ہوگی اسرائیلی فوج مرحلہ وار پیچھے ہٹے گی، ایک بین الاقوامی ادارہ مزاحمت کاروں کو غیر مسلح کرے گا اور تعمیر نو کی نگرانی کرے گا۔ ایک عبوری حکومت تشکیل دی جائے گی جس میں فلسطینی اور غیر ملکی ماہرین شامل ہوں گے لیکن مزاحمت کار اس سے باہر رکھے جائیں گے۔ فلسطینی اتھارٹی کی اصلاحات مکمل ہونے تک عالمی نگرانی قائم رہے گی۔

اس منصوبے کی سب سے خطرناک شق یہ ہے کہ اس میں مسجد اقصیٰ اور القدس کا ذکر تک نہیں۔ ٹرمپ نے تو اپنے پہلے دورِ حکومت میں ہی امریکی سفارت خانہ یروشلم منتقل کرکے اعلان کر دیا تھا کہ القدس، مسجد اقصیٰ سمیت، اسرائیل کا دارالحکومت ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ مسلم ممالک کے مشترکہ اعلامیے میں بھی القدس اور مسجد اقصیٰ کو کیوں نظر انداز کیا گیا؟ کیا یہ خاموشی اس بات کا اعلان ہے کہ مسلم حکمران صہیونی منصوبے سے متفق ہو چکے ہیں کہ قبلۂ اول کو مسمار کرکے وہاں ہیکل سلیمانی تعمیر کیا جائے؟

یہ پہلا موقع نہیں کہ ٹرمپ نے ایسا منصوبہ پیش کیا ہو۔ 2020 میں انہوں نے فلسطین کے حوالے سے تقریباً 180 صفحات پر مشتمل منصوبہ پیش کیا تھا جسے ’’ڈیل آف دی سینچری‘‘ کہا گیا۔ اس منصوبے کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ ایک فلسطینی ریاست قائم کی جائے گی مگر ایسی ریاست جو مکمل طور پر غیر مسلح ہو جس کی سکیورٹی اسرائیل کے پاس ہو اور جس کے جغرافیے میں درجنوں یہودی بستیوں کو اسرائیل کا حصہ تسلیم کیا جائے۔ فلسطینی علاقوں کو ایسے بے ربط ٹکڑوں میں تقسیم کیا جانا تھا کہ ان میں کوئی جغرافیائی تسلسل باقی نہ رہے۔

یہ منصوبہ اہل فلسطین نے خون سے رد کر دیا۔ دو لاکھ سے زائد جانوں کی قربانی اس بات کا ثبوت ہے کہ فلسطینی اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن آج ٹرمپ ایک نئے ایجنڈے کی شکل میں وہی پرانا منصوبہ لے آئے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس بار فلسطینی ریاست کا ذکر تک نہیں۔ صرف ایک ہی بات بار بار دہرائی گئی ہے: مزاحمت کار ہتھیار ڈال دیں۔ گویا یہ منصوبہ ایک معاہدۂ امن نہیں بلکہ ایک معاہدۂ ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہے۔

اس نئی اسکیم میں غزہ کا نظم و نسق ایک کمیٹی کے سپرد کیا جانا ہے جس کا سربراہ خود امریکی صدر ہوگا اور اس میں سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر جیسے متنازع کردار بھی شامل ہوں گے۔ فلسطینی نمائندگی کے نام پر چند ٹیکنوکریٹس شامل کیے جائیں گے جنہیں بیرونی طاقتیں منتخب کریں گی۔ یوں غزہ کے مستقبل کا فیصلہ بھی باہر بیٹھے ہوئے لوگ کریں گے۔

ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر منصوبے کو قبول نہ کیا گیا تو اسرائیل کو اہداف کے حصول کے لیے ہر طرح کے اقدامات کی کھلی چھوٹ ہوگی۔ یعنی یا تو فلسطینی ہتھیار ڈالیں یا پھر مزید خون بہانے کے لیے تیار رہیں۔

لیکن مزاحمتی جماعتوں نے دو ٹوک جواب دیا ہے۔ اسلامی جہاد کے سربراہ زیاد النخالة کے بقول یہ منصوبہ محض امریکی اسرائیلی معاہدہ ہے جو جنگ میں ناکامی کے بعد سفارت کاری کے ذریعے کامیابی حاصل کرنے کی کوشش ہے۔ حماس کے رہنما طاہر النونو نے واضح کیا کہ ہمارے ہتھیار فلسطینی ریاست کے قیام سے جڑے ہیں۔ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی اسی وقت ممکن ہے جب جنگ ختم ہو اور اسرائیلی فوج غزہ سے مکمل انخلا کرے۔

یہ بیانیہ حقیقت کے زیادہ قریب ہے۔ اسرائیل نے بارہا کوشش کی کہ فلسطینیوں کو غزہ سے بے دخل کر کے صحرائے سینا یا کسی اور ملک کی طرف دھکیل دیا جائے مگر ہر بار اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ اب جبکہ غزہ سٹی پر پچاس ہزار فوجی مسلط کرنے کے باوجود اسرائیل فیصلہ کن فتح حاصل نہ کر سکا تو ٹرمپ کی چوکھٹ پر جا بیٹھا ہے۔

مزید افسوس ناک امر یہ ہے کہ مسلم حکمران اس منصوبے میں امریکہ کے ہمنوا بن گئے ہیں۔ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ٹویٹ میں اس منصوبے کو خوش آمدید کہا اور دو ریاستی حل کی بات کی، حالانکہ ٹرمپ کے ایجنڈے میں دو ریاستوں کا ذکر ہی موجود نہیں۔ سعودی عرب، قطر، مصر اور اردن نے بھی امریکہ کے ساتھ تعاون کا عندیہ دیا۔ فلسطینی اتھارٹی نے بھی اس منصوبے کو سراہا، گویا اپنے ہی عوام کی پیٹھ میں چھرا گھونپا۔

عالمی ردعمل بھی کم مضحکہ خیز نہیں۔ فرانس کے صدر ماکرون نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ امن کا بہترین موقع ہے۔ برطانیہ کے وزیراعظم نے اسے امن کی کنجی قرار دیا جبکہ سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر نے اسے ’’شجاع اور ذہین منصوبہ‘‘ کہہ ڈالا۔ اٹلی اور ناروے نے بھی اس کی حمایت کی۔ یورپی طاقتیں دراصل اس منصوبے کو ایک نئے ابراہام اکارڈ کے طور پر دیکھ رہی ہیں یعنی ایک ایسا فلسطین جو صرف نام کا ہو مگر عملاً اسرائیل کا تابع فرمان ہو۔

یہ حقیقت ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے بغیر یہ منصوبہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ ان دونوں ممالک کو ساتھ ملانے کے لیے ہر حربہ استعمال کر رہا ہے۔ قطر سے معافی مانگنے اور مسلم دنیا کے ساتھ شراکت داری کی باتیں اسی منصوبے کی کڑیاں ہیں۔

ادھر فلسطینی عوام اور مزاحمت کار جانتے ہیں کہ یہ منصوبہ ان کے وجود کو مٹانے کی سازش ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ جب نظریہ اور بقا کے درمیان انتخاب کا وقت آتا ہے تو حقیقی غیرت مند قومیں جان سے زیادہ نظریے کو عزیز رکھتی ہیں۔ اسی لیے غزہ کے لوگ جھکنے کے بجائے ڈٹنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔

مشہور فلسطینی تجزیہ کار رامی عبده نے بجا کہا کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو فلسطینیوں کے بارے میں یوں گفتگو کرتے ہیں جیسے وہ انسان نہیں بلکہ محض جانوروں کا ریوڑ ہوں۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ فلسطینیوں نے ہر بار اپنے خون سے ثابت کیا ہے کہ وہ زندہ قوم ہیں۔

یوں ٹرمپ کا نیا منصوبہ دراصل نئی بوتل میں پرانی شراب ہے۔ مقصد وہی ہے: مزاحمت کو ختم کرنا، فلسطین کو غیر مسلح کرنا اور مسجد اقصیٰ کو فراموش کر دینا لیکن فلسطینی عوام کی استقامت اس بات کی ضمانت ہے کہ یہ سازش بھی ناکام ہوگی۔ جب تک غزہ میں ایمان کی شمع روشن ہے اور مسجد اقصیٰ کے در و دیوار پر سجدے ہوتے رہیں گے کوئی دجالی منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔ ان شاءاللہ۔

Related Posts