بلوچستان میں گندم کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے کیونکہ صوبائی فوڈ ڈیپارٹمنٹ کے پاس گندم کے ذخائر ختم ہوچکے ہیں۔
بدھ کے روز ایک نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق صوبے میں رواں مالی سال کے دوران اب تک گندم کی خریداری نہیں کی گئی۔
ذرائع کے مطابق کابینہ کی منظوری کے بعد سال 2023 کا ذخیرہ جاری کردیا گیا ہے تاہم ستمبر 2025 سے مارچ 2026 تک کے لیے فوڈ ڈیپارٹمنٹ کے پاس کوئی ذخائر موجود نہیں ہیں۔
موجودہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت بلوچستان کو ایک سمری ارسال کی گئی ہے جس میں پانچ لاکھ بوری گندم پاسکو یا پنجاب سے خریدنے کی سفارش کی گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ گندم کے ذخائر کی کمی نے صوبے میں بحران کو جنم دیا ہے اور اس کے نتیجے میں آٹے کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا خدشہ ہے۔
یاد رہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں پہلے ہی آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ہوچکا ہے اور لاہور میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 2000 روپے تک پہنچ گیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








