وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ایف نائن پارک میں اتوار کی شب دوران واردات قاسم کو گولی لگی اور وہ خالق حقیقی سے جا ملے۔
قاسم ایک انتہائی قابل نوجوان تھے۔ قاسم نے پاکستان کی مشہور یونیورسٹی لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائسنز (لمز) سے اکنامکس میں گریجویشن کیا تھا اور وہ کھانے کی ڈیلیوری ایپ ’فوڈ پانڈا‘ میں بطور مینیجر کام کرتے تھے۔
اس واقعے کے بعد قاسم کے دوست احباب سمیت کئی افراد نے سوشل میڈیا پر پیغامات سے غم و غصے کا اظہارکیا اور#justiceforqasim کا ٹرینڈ بھی چلایا۔
یہ بھی پڑہیں : دعا زہرہ والدین سے ملاقات کیے بغیر لاہور کیلئے روانہ
ان کے ایک دوست عبدالوہاب خان نے فیس بُک پر لکھا کہ قاسم اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے تھے۔ انھوں نے پاکستان میں رہنے اور کام کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ ان کی کلاس کے ساتھیوں کی اکثریت بہتر ملازمت اور اعلیٰ تعلیم کے لیے ملک چھوڑ کر جا چکی ہے۔
اس واقعے پر سابق وفاقی وزیر انسانی حقوق اور پاکستان تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’ایک ہولناک سانحہ اور ایک بے رحمانہ فعل نے ایک جوان زندگی کو خاتمہ کر دیا۔ میں کمشنر اسلام آباد کو کہتی رہی ہوں کہ ایف نائن پارک میں کچھ سی سی ٹی وی کیمرے لگائیں جائیں لیکن بارہا یاد دہانی کے بعد بھی کچھ نہیں ہوا۔ ہمارے معاشرے میں تشدد کا پروان چڑھنا بہت پریشان کن ہے۔

گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








