معروف گلوکار اور سماجی کارکن شہزاد رائے نے ایک اہم مسئلہ پر روشنی ڈالتے ہوئے قوم سے ایک اہم سوال کیا ہے۔
انہوں نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں ان کی تنظیم، زندگی ٹرسٹ کے زیر انتظام اسکول کے طلبہ بھی ان کے ہمراہ ہیں۔
شہزاد رائے ویڈیو میں وہ اپنے پیروکاروں کو مخاطب کرتے ہوئے لکھتے ہیں، “میں آپ کو بتاتا ہوں کہ میں زندگی ٹرسٹ کے تحت کراچی میں ایس ایم بی فاطمہ جناح اسکول کے آس پاس کے اپارٹمنٹس اور رہائشیوں کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کیوں کھڑا ہوں۔
ویڈیو میں ایک کلاس روم دکھایا گیا ہے جو کبھی منشیات کے عادی افراد کے اجتماع کی جگہ تھا، جو اب لڑکیوں کی کانفرنسوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس میں ایک ایسا علاقہ بھی ہے جو پہلے لینڈ مافیا کے زیر کنٹرول تھا، جسے ایک لائبریری میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
اس کے بعد شہزاد رائے ایک آرٹ روم دکھایا اور اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ شہر کے بہت سے نجی اور مہنگے اسکولوں سے بڑا ہے۔ یہ جگہ جو پہلے شادیوں کے لیے استعمال ہوتی تھی اب تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال کی جارہی ہے۔
گلوکار نے کہا، ’’میں تمام لوگوں پر الزام نہیں لگاؤں گا لیکن بہت سے لوگوں نے اس تبدیلی کو دیکھا ہے، پھر بھی وہ اپنا کوڑا کرکٹ گرلز اسکول میں پھینکتے ہیں۔
شہناز گل کا توبہ توبہ پر خوبصورت ڈانس، دیکھنے والے بھی توبہ توبہ کرنے لگے، ویڈیو
انہوں نے اسکول کی طالبات کی جانب سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسکول کی 3000 لڑکیاں ہاتھ جوڑ کر درخواست کررہی ہیں کہ محلے کے مکین اسکول کے میدانوں میں کوڑا کرکٹ پھینکنا بند کریں اور اسے صاف رکھنے میں مدد کریں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ان لڑکیوں کی فریاد سن کر لوگ یہاں کچرا پھینکتے رہے تو شاید یہ قوم جنت میں بھی کچرا پھینکتی رہے گی۔
ان کے انسٹاگرام پوسٹ کے کیپشن میں لکھا ہے: “لوگوں کو اپنے اسکول میں کچرا پھینکنے سے روکنے کے لیے اب ہمیں کیا کرنا چاہیے؟۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








